COVID-19 اور ہماری کچھ ذمہ داریاںمضامین و مقالات 

COVID-19 اور ہماری کچھ معاشرتی ذمہ داریاں

جب سورج کی روشنی زمین پر پڑتے ہی چُڑیوں کا چہچہا نا، پھولوں کا کھلنا، اور انسان کے اُٹھنے سے شروع ہوتی ہے ہماری زندگی۔ صبح سے لیکر شام تک کے سفر میں کیاکچھ نہیں کرتے ہیں۔کوئی مزدوری کیلئے نکلتا ہے توکوئی آفیس، کا لج، اسکولس، ہاسپٹلس وغیر ہ جانے کے لئے تیار رہتا ہے۔

شام ہوتے ہی سب اپنے اپنے کاموں کو لپٹا کر گھر کو لوٹ آتے ہیں۔ گھرمیں اپنوں کے ساتھ اور پڑوسیوں کے ساتھ کچھ لمحے ہنسی خوشی سے رہنا چاہتے ہیں۔ ہر کوئی جیسا بھی رہو،چاہے امیر ہو یا غریب، سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے تھے۔ ایسی خوبصورت دنیا میں اچانک سے طوفان سا آگیا۔ لوگ حیران پریشان ہونے لگے اور سب کچھ سناّٹا سا چھاگیا۔سوشل میڈیا پر اس وائرس کو لے کر طرح طرح کے لطیفے آنے لگے۔ کوئی لکھتا ہے کہ”کتےّ بھی پریشان ہے کہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہیں انسانوں کو بھی ہماری طرح میونسپلٹی کے لوگ اُٹھا کر تو نہیں لے گئے؟“ اس طرح سے انسان اس بیماری کو مذاق بنا کر رکھا ہے۔ بڑی افسوس کی بات ہے۔


اس ملک میں ایسے بھی دن دیکھنے کو ملیں گے، یہ کبھی کسی نے خواب میں بھی نہ سونچا ہوگا۔ 17 مئی تک کا لاک ڈاؤن پورے ہندوستان میں نافذکیاگیا۔یہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کس لئے ہوا؟ ہر ایک کے ذہن میں کئی قسم کے سوالات آتے گئے۔اچانک سے یہ کیا ہوگیا ہوگا کہ پورے ہندوستان کو لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔یہ کونسا سیلاب آگیاہے کہ پورے ملک میں اچانک سے خاموشی چھاگئی۔یہ وہ سیلاب تھا کہ جو آنکھوں کو نہیں دکھتا تھا۔پورے دنیامیں چھاگیاہے۔ جیساکہ ایک چور گھر میں گھس کر بیٹھا ہوا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔پچھلے سال31ڈسمبر کو اس وائرس کی شروعات ہو ئی۔اس وائرس کا نام ”کورونا“ جسے بعد میں کوویڈ۔19“۔ کانام دیاگیا۔ چلو! اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے، کدھرسے اور کیسے پھیلتاچلا گیاہے۔

کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹرس کا درجہ خدا کے بعد ہوتا ہے کیونکہ وہ زندگی کو بچاتے ہیں، زندگی دینے والا خدا ہے تو اس زندگی کو بچانے والاڈاکٹر ہے۔ ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ ہم خود کو محفوظ رکھیں اور ساتھ میں دوسروں کی زندگی کو بھی اس خطرناک جان لیوا وائرس سے بچانے کی کوشش کریں۔

اس بیماری کی شروعات کو ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ وائرس چائنا میں پیدا ہو اہے اس وباء کے پھیلاؤسے پتہ چلتاہے کہ اکتیس ڈسمبر کو پہلی بارچائنا نے اس وائرس کے بارے میں جانکاری دی ہے۔ چائنا کا ایک علاقہ ”ووہان“میں تیس آدمی کو پہلے سے ہی ”کورونا“ کا انفیکشن ہوا تھا۔ اس کے بعدجو اکتیس واں مریض ہے اس کوپہلا کورونا وائرس سے متاثرہ شخص قرار دیا گیا تھا۔ اس کیس کو جنوری 20 تاریخ کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ35 سال کی ایک چینی خاتون نے ووہان (چین) سے سیدھا ”سیان“کو پہنچی۔ اس کے بعد چار ہفتے کوریامیں رہی۔ یہ خاتون تو پہلے سے ہی تندرست تھی۔ چھ فروری کو ایک چھوٹا سا حادثہ(Accident) کی وجہ سے وہ خود جاکرہسپتال میں ایک دن کے لئے شریک ہوگئی۔اس خاتون کوتھوڑی سی بخار بھی تھی۔جس کی وجہ سے ڈاکٹرس نے ”کورونا“ کا ٹیسٹ کروانے کو کہا۔ لیکن خاتون نے ٹیسٹ کروانے سے صاف انکار کردیا اوروہ ہسپتال سے چلی گئی۔

اس کے بعد اس خاتون نے دو ہفتے ادھر ادھر گھومتی پھرتی رہی۔ وہاں پر موجود چرچ وغیرہ میں بھی گھومتی رہی، پھر وہاں سے سفر کے دوران ایک دوکان (shop) میں بھی کچھ خریداری کی۔پھر اس کے بعد ایک دوست کے ساتھ مل کر ایک بڑی ہوٹل میں کھانے کے لیے گئی، اس کے بعد وہ واپس اپنے گھر لوٹ آئی۔ دو ہفتوں بعد اس خاتون کو وائرس کے اثرات نظر آنے لگے۔وہ فوراً ہاسپتل پہنچ گئی اورکورونا کا ٹیسٹ کروائی۔ رپورٹ میں COVID-19 پوزیٹیو آیا۔اس خاتون کی ایک لا پرواہی نے پوری دنیا کے ممالک کو پریشان کر رکھا ہے۔آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ دو ہفتوں میں یہ خاتون 9300 آدمیوں کو ملی تھی اور اس میں سے 5000 ہزار لوگوں کو یہ انفیکشن پھیلا تھا،اس سے اندازہ ہوتا ہیں کہ ٪60 فیصد بیماری پھلتی چلے گئی۔

مثال کے طور پر جنوبی کو ریا کی آبادی تقریباً چھ کروڑہو سکتی ہے لیکن ہمارے ہندوستان کی آبادی کا اندازہ لگایا جائے گا تو صرف بمبئی شہرمیں ہی دو کروڑیا اس سے زیادہ آبادی بھی ہوسکتی ہے۔ہندوستان میں صرف ایک شہر میں ہی دو کروڑ لوگ بس رہے ہیں۔تو آپ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ پورے ہندوستان میں لگ بھگ دیڑھ سو کروڑ آبادی پائی جاتی ہیں۔ ایک بار یہ سوچ کر تو دیکھئے کہ پورے ہندوستان میں اس وائرس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اب صرف ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس بیماری سے کس طرح احتیاط برتیں۔


دن بہ دن یہ وائرس پھیلتا جارہا ہے۔ اس کی خبریں رسالوں،سوشیل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر ہلچل مچا رہی ہے۔ کچھ لوگ تو اس وائرس کا مذاق بنارہے ہیں۔ چوں کہ بہت غلط ہے۔ آپ نے کبھی یہ سونچا ہے کہ جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہے ان پہ کیا بیت رہی ہوگی؟ زندگی اور موت کے بیچ لڑ رہے ہیں۔

ان کو بچانے کے لئے ڈاکٹرس اپنی جان کی بھی پرواہ کئے بغیر دن رات ان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور پولیس اپنے اپنے فرائض بہ خوبی طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ میونسپلٹی کے وہ افراد جو سڑکوں،گلی،کوچوں،میں صفائی کا کام انجام دے رہے ہیں ان کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتاہے۔ لوگ بھیڑ میں نہ آئے اس کے لئے حکومت نے لاک ڈاؤن لگا رکھا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ”جان ہے تو جہاں ہے“۔اس پر بھی کچھ لوگ عمل نہیں کر رہے ہیں۔بڑی افسوس کی بات ہے۔ہم کو حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے،اس وباء سے چھٹکارہ پانے کے لیے صرف اور صرف ہمارے پاس ایک ہی ذریعہ ہے۔وہ ہے گھر میں ہی رہیں اور گھرسے باہر نہ نکلیں۔جتنا ہو سکے گھر سے باہر جانے سے گریز کریں،اپنے دوست و احباب رشتہ داروں سے کچھ دن تک دوری بنائے رکھیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ:

طوفانوں سے آنکھ ملاؤ،سیلابوں پر وار کرو
ملاّحوں کاچکّر چھوڑو، تیرکے دریا پار کرو

چلو! اب ہم حکومت کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔تاکہ ”کورونا“ کو اور پھیلنے سے روکتے ہیں۔

1)ضرورت سے زیادہ باہر نہ نکلیں۔ اپنے گھر میں ہی رہیں۔
2)اپنے گھرکو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کریں اور اپنے گلی کوچوں کو بھی صاف رکھیں۔
3) اپنے ہاتھوں کو بار بار صابن یا سانیٹیذر سے دھوتے رہیں۔
4) آپ کو سردی،بخار، وغیرہ کے اثرات نظر آئیں تو فوراً ہسپتال میں علاج کروالیں۔
6) دوسروں سے ہاتھ ملانے سے گریز کریں، جتنا ہو سکے دوری بنائے رکھیں۔
7) اور اپنے بزروگوں اور والدین کا صحت کا خیال کرتے ہویے باہر جانے سے گریز کریں تاکہ آپ کی وجہ سے ان کی صحت متاثر نہ ہو۔

اس طرح ہم اپنے اہل خانہ اور اپنے دوست،احباب، رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ ہندوستان،اوربیرونی ممالک میں اس بیماری کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔ جب تک اس وائرس کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم حکومت اور ڈاکٹرس کی باتوں پر بھروسہ کریں ان کی باتوں کو سنے۔ اور اس پر عمل کریں۔ بُرا وقت ہے،جلد ہی ٹل جائیگا۔بس ہمیں انتظار کرنا چاہئے۔ اس وقت کے حالات پر مبنی ایک نظم ملاحظہ ہو :

بے وجہ گھر سے نکلنے کی ضرورت کیاہے
موت سے آنکھیں ملانے کی ضرورت کیا ہے
سب کو معلوم ہے باہر کی ہوا قاتِل ہے
یوں ہی قاتِل سے اُلجھنے کی ضرورت کیا ہے
ایک نعمت ہے زندگی اُسے سنبھال کے رکھ
قبرستاں کو سجانے کی ضرورت کیا ہے
دل کے بہلانے کو گھر میں ہی وجہ کافی ہے
یو ہی گلیوں میں بھٹکنے کی ضرورت کیا ہے

Avatar

Written by 

Related posts