کالم 

یہ نہ تھی ہماری قسمت

بابری مسجد کی عرفی حیثیت بظاہر تبدیل کرکے اسےمندر کی شکل دے دی گئی ہو، اور بزور بازو اور کچھ اپنوں کی طوطہ چشمی کی وجہ سے خانۂ خدا کو صنم کدہ میں تبدیل کردگیاہو ،لیکن شریعت کے نزدیک ایک جگہ پر جب مسجد کی تعمیر کردی جائے توقیامت تک کیلیے وہ زمین مسجد کیلیے مختص ہوکررہ جاتی ہے۔

ان ساری باتوں سے قطع نظر ہمیں بابری مسجد کے اس پہلو سے اغماض نہیں کرناچاہیے ، جسکی طرف بابری مسجد کی شکستہ دیواریں ایک لمبے عرصہ سے خاموش اشارہ کررہی تھی ، اور اس پر ہم نےکبھی نگاہ غلط انداز بھی ڈالناگوارہ نہ کیا۔

ہنومان گڑھی کی مسجد کےتحفظ کی خاطر ابتداء میں مسلم مجاہدین کیلیے چھاونی کی حیثیت سے استعمال کیےجانےوالابقعۂ نور آج خود ظلمت کدہ میں تبدیل ہوگیا، اس وقت بھی دوچیزیں بہت نمایاں تھی، ایک حکومت وقت کااپنےمفاد کی خاطر مسجد کو ہندومسلم رسہ کشی کی آماجگاہ بنانا، دوسرے اپنوں کی طوطہ چشمی، بےتوجہی اور ان سب سے بڑھ کر ٹھوس اورراست اقدام کے بجائے عاجلانہ وغیردانشمندانہ منصوبے۔

اور آج جبکہ بابری مسجد پر اغیار کامکمل تسلط ہو چکاہے،یہی دوچیزیں بابری مسجد کےتئیں ناسور بن کر ملت کےہرفرد کو زچ کررہی ہے ، جس شب بابری مسجد میں مورتیاں رکھی گئی تھی اس دن سے لےکر آج تک ہم نے عدلیہ پراندھاااعتماد کیا جسکاغیر حتمی نتیجہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے، سیکولرازم کےنام پر جس حکومت کے آغوش میں ہم گہری نیند سوچکے تھےخود اس حکومت نےمنافقت کے ذریعہ ہمیں کئی بار بیدار کرنے کی کوشش کی، لیکن ہم خوش فہمی میں اور کچھ مجبوریوں کی وجہ سے اس قدر بد مست ہوگئے کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہاکہ ہم نے شاخ نازک پر آشیانہ بنایاہے، جسے کسی بھی وقت آندھی اچک سکتی ہے۔

اگر ہمارے اندر کا شعور اور احساس بیدار ہوچکاہے اور واقعتااب بیدار ہوجاناچاہیے توبابری مسجد ہمارےاندرون کے انقلاب کیلیے بہترین مہمیز ثابت ہوگا،اور ہمیں اپنےاردگرد مزید تاویلات کاحصار قائم کیےبغیر یہ تسلیم کرلیناچاہیےکہ اس طویل عرصہ میں ہم نے کئی ایک غلطی کی جسکاخمیازہ ہمیں بھگتناپڑرا، اس پوری فلم میں ہم نےولن کاکردار اداکیاہے، کردوغلو اور میرجعفر بھی ہمارے آس پاس ہالہ بنائے ہوے تھے ، عدلیہ نےہمیں بیوقوف بنایا اور ہم نےمان لیا۔

بابری مسجد کی بازیابی عدالت سےنہ کبھی ممکن تھی اورنہ ہے اس پوری تمثیل میں جوکہ امرواقعہ بن چکاہے، بابری مسجد نے ہمیں بتایاکہ کسی چیز کاحصول صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ آپ حق پر ہیں ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ زمینی طور پرنہ صرف جان جوکھوں میں ڈال کر محنت کرنی پڑتی ہے بلکہ ایک لمبی مدت تک زمیں اور فضا کواپنے حق میں ہموار کرناپڑتاہے۔

اور موجودہ صورتحال میں بھی اپنی کمیوں اور خامیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ماضی کاایک طویل جائزہ لیناہوگا ، اور ہر ایک کو اپنےمشن سے مکمل آگاہ کرناپڑیگا، جلسوں اشتہاروں سے قطع نظر ملت کےتئیں مکمل مخلص ہوکر محکم منصوبہ بندی کرنی پڑیگی، کہ جس سے کفر کےسارے تانےبانے بکھر کررہ جائیں، وگرنہ تسلی کیلیے توعلامہ کاایک مصرعہ بھی کافی ہے۔

ہے جرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات ع