پھولی دیویخبریں 

ہریانہ کے 30 مسلم خاندانوں اپنایا ہندو دھرم

آج اکلانہ بلاک کے بیتھماڑا گاؤں میں 30 مسلم میراسی برادری نے ہندو مذہب قبول کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ اعلان ایک بزرگ خاتون پھولی دیوی کے انتقال کے بعد کیا۔

ذرائع کے مطابق بیتھمارا خاندانوں کے دنودھا کلاں کے کنبہوں کے ساتھ بہترین معاشرتی تعلقات ہیں۔ دوندھا کلاں وہی کنبہ ہےجس میں گزشتہ ماہ 6 مسلم گھروں کے 35 ارکان نے ہندو مت اختیار کیا تھا۔


مرتد ستبیر نے بتایا کہ اس کی ماں پھولی دیوی کی فطری موت ہوئی اور گاؤں والوں نے ابتداء میں طئے کیا کہ اسے دفن کیا جائے مگر ہندوؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد اس کی میت کو نذرآتش کیا گیا ۔

انہوں نے کہا اس سے پہلے ہمارے کنبے میں اسلام کے مطابق مرنے والوں کو دفن کیا جاتا تھا لیکن ہم نے اس روایت کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہندو روایات کے مطابق اپنی والدہ کے جسد خاکی کو جلانے کا فیصلہ کیا ہے ، “انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں میں 30 خاندانوں میں تقریبا 150 ممبر ہیں۔

بیتھمارا کنبہ کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی مسجد میں نہیں جاتے ہیں اور در حقیقت گاؤں میں مسجد نہیں ہوتی ہے۔ “ہمارے علاقے جاٹ گھروں کے قریب ہیں اور ہم ان کے ساتھ مشترکہ معاشرتی تعلقات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہم ان کے پاس مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور سماجی کاموں میں ان کی مدد کرتے ہیں۔


ایک اور دیہاتی ستیش پاتر نے بتایا کہ گاؤں میں کبھی بھی کوئی فرقہ وارانہ الجھاو نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگ کھیتوں میں کام کرتے اور روایتی ’سانگ‘ گاتے ہوئے گزارہ کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے ہندو مذہب قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ، ہم ان کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لئے ان پرکوئی دباؤ نہیں ہے.

مقامی مسلم ویلفیر آرگنائزیشن کے ریاستی صدر حرفول خان نے کہا کہ یہ سب کوٹہ کی حرص کا نتیجہ ہے. تاہم گزشتہ روز بھاری تعداد میں مسلمانوں کا ہندو بننا بلاشبہ مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔

Related posts