مسلم دنیا 

کانگریس، مجلس اور مہاگٹھبندھن! چشم کشاتجزیہ

بہارکےحالیہ انتخاب کےنتائج آچکےہیں ، مہاگٹھبندھن کےوزیراعلی کےامیدوار،،تیجسوی جی،، کی زبان میں بہارکی عوام کافیصلہ مہاگٹھبندھن کےحق میں آیاہے ،جبکہ،، چناوآیوگ،، کافیصلہ این ڈی اےکےحق میں ہے ،فیصلہ خواہ جوبھی ہواس پورےسیاسی منظرنامہ میں ایک چیز خوب زوروں پربحث میں رہی، وہ ہے ،،اسدالدین اویسی ،،کی پارٹی ،،مجلس اتحاد المسلمین ،،کی بہارانتخاب میں شمولیت ،این ڈی اے،،کی جیت کےبعد توگویا،،کانگریس ،،کےحامیوں نے اسےاور بھی زیادہ طول دینےکی کوشش کی ،اور،،اخلاقی تقاضہ،، کوبالائےطاق رکھتے ہوے چہ جائیکہ اپنی شکست کااعتراف کرتے دوسروں پرالزام تراشی کابازارگرم دیا، میں نےاس،، پوری بحث،، سےخودکوکنارےرکھنےکی بہیترے کوشش کی لیکن احباب اپنےموقف پراس شدت کےساتھ مصررہیں جیسےکہ کسی ،،ہاتف غیبی،، نےان کےحق پر ہونےکا اعلان کردیاہو،سب سےزیادہ مضحکہ خیز تویہ بات رہی کہ ،،بودے ،، اورلچردلائل،،کےساتھ

میں غیرجانبداربن کرفریقین کے موقف اور انکےدلائل کا جائزہ اختصار کےساتھ آپ قارئین کےسامنےپیش کرتاہوں “شاید کہ اترجائےترےدل میں میری بات”

کانگریس

کانگریس شروع ہی سےمجلس پریہ الزام لگاتی رہی ہیکہ وہ “ووٹ کٹوا” پارٹی ہے اگراسےالزام کی نظرسےدیکھیں تواس کی حیثیت اس سےزیادہ اور کچھ نہیں ہیکہ کانگریس ہی کاماضی قریب میں رکارڈ بہارکے اندر کتنااچھارہاہے ،آزادی کےوقت میں جواسےعوامی مقبولیت حاصل تھی، وہ اعتماد کانگریس اپنےکارہائےنمایاں کی وجہ سےکھوچکی ہے، ہندووں کےاندر،،نرم ہندوتوا،،کی وجہ سے، اورمسلمانوں کےاندران کےساتھ کی گئی ،،بڑی بڑی،، ناانصافیوں کی وجہ سے، اور کانگریس کی جیت دراصل بہارمیں ،،راجد ،،جیسی علاقائی پارٹیوں سےاتحاد کی وجہ سےہوتی ہے، اورخود،،راجد،، کی زمینی صورت حال سےبھی آپ واقف ہونگےکہ راجد اپنے سابقہ رکارڈ کوبھی برقرارنہیں رکھ پائی اس کاٹھیکرا آپ جسکے سرچاہےپھوڑیں لیکن حقائق کاآپ یک قلم انکارنہیں کرسکتےہیں، عوام کاجوجوش اورجذبہ تھا، بھیڑ کا جو پورا ایک سماں بندھتاتھا شاید وہ ووٹ میں نہیں بدل سکایاآپ خود حقیقت سےزیادہ خوداعتمادی کے شکارہوگئےہویاآپکےبقول ،،جنتا،،نے ووٹ کیاتھا الیکشن کمشنر غیرجانبداری کامظاہرہ نہ کرسکا ،آپ شکست کےان اسباب پرغورنہیں فرمارہےہیں، بلکہ ،،بےقصورکومجرم بنانے کےمترادف،،ایک طرف جھوٹی تسلی کیلیےاخلاقیات کی حد کوپارکرکےکہتےہیں ہم دراصل جیت چکےہیں، لیکن الیکشن کمشنر غیرجانبدارنہیں ہے ،دوسری طرف دبےلفظوں میں شکست کااعتراف کرتے ہوے ہار کا ٹھیکرا کسی اورپر پھوڑنے کی کوشش ہورہی ہے ،یہ دوہرارویہ آپکے اخلاقیات کاماتم کررہاہےساتھ ساتھ عناد کی چغلی بھی کھارہاہے، ویسے ہمارے ہاں ،،سیاست میں ہرچیز چلتی ہے،، کےنام پرسب کچھ کرلیاجاتاہے،توآپ نےپھریہ سب کچھ توبہت کم کیاہے ،بایں ہمہ افسوس توہمیں ان عقلمندوں پرہوتاہےجن کویہ کھلا داخلی تضاد نظرنہیں آتاہے حقائق کےمیزان پربھی اگراس الزام کوپرکھاجائے توسب سے پہلے اس بات پرہمیں غورکرنا چاہیے کہ اویسی کی پارٹی،، ووٹ کٹوا،،کیوں بنی؟حقیقی اسباب وعوامل کیاتھے؟

اگرانکوبھی انضمام کاحصہ بنایاجاتاتوشاید ،،نوبت اینجا رسید ،،کامرحلہ نہیں آتا،سیکولرازم کاچولہ پہنےوالی پارٹیوں نےانہیں اپنےساتھ کیوں نہیں رکھا؟جبکہ اویسی کےبقول ساری سیکولرپارٹیوں سےاسکےنمائندےاوروہ خود کئی بارملےتھے ،لیکن انہوں نےگھاس ڈالناتک گوارہ نہ کیا،شنید ہیکہ مجلس دس سیٹوں کامطالبہ کررہی تھی جبکہ انضمام کی دوسری پارٹیاں بالخصوص ،،کانگریس ،،چھ سیٹ ہی دینےپرمصرتھی،اب تونتائج نےاویسی کےمطالبہ کوحق بجانب قرار دیااب توہمیں آنکھوں پرسےپٹی ہٹالینی چاہیے جس کانگریس نے،،ستر،،سیٹوں میں سے صرف ،،انیس ،،سیٹوں پرفتح حاصل کی مجلس نےتوفیصدی حساب سے اس کہیں زیادہ کارہائےنمایاں انجام دیا،آپ اگرکہیں کہ مسلم اکثریتی علاقےسےجیت درج کی توپھرانضمام کوبھی مسلم اکثریتی علاقےاویسی کےحوالےکرنےمیں پس وپیش کیوں تھی کم ازکم حالیہ نتائج کےاعتبار سے کانگریس سے بہتر کاکردگی مجلس کی ہوتی اویسی سےانضمام کااتحاد نہ کرنا کسی بھی عقل پسند کےنزدیک ایسی سیاسی غلطی ہے جس کاتدارک شاید پانچ سال بعد ہی کیاجاسکتاہے ویسے سانپ کےبھاگ جانےکےبعد لاٹھی پیٹنےکاکیافائدہ ؟

سب سےزیادہ تعجب کی بات یہ ہیکہ یہ سارا شور انتخابی مراحل میں نہیں تھا،اس وقت مسلم دانشوروں کےنزدیک اویسی،، ووٹ کٹوا،،نہیں تھا ,غدار مسلم دشمن نہیں تھا،یہ سب کچھ انتخاب کےبعد ہواہے اگرپہلےسےاویسی کی وہی شناخت تھی تواویسی پانچ سیٹیں کیسےجیت گیا؟اورآپ نےشروع ہی سےمخالفت کیوں نہیں کی ؟ یاپھرآپکویہ اندازہ نہیں تھاکہ اویسی پانچ سیٹیں جیت سکتاہے، آپ عوامی مقبولیت سےناآشنانہیں تھے بلکہ بہت ساری جگہوں پرآپ اس مقبولیت میں اضافہ کاسبب بھی بنے، توپھر سیخ پا ہونےکاسیدھامطلب یہ ہیکہ آپ کودراصل تکلیف انکی فتح سے ہے اوریہی ہماری خوشی کی وجہ ہے ،سیکولرازم پریقین رکھنےکایہ مطلب نہیں ہے ہمیں جس نشست پر بٹھادیا جائے ہمیں قبول ہے ،اگرعوام نےانہیں جیت دلائی ہےتوکہیں نہ کہیں پہلےاس نےعوام کااعتماد جیتاہوگا،آپ ان کی جیت کااحترام کریں ،چونکہ سیکولرازم کاسارپہیہ ،،مینڈیٹ ،،کے ارگردناچتاہے ، اب سیکولرپارٹیاں اپناحساب بےباق کریں کہ وہ عوام کواپنےنظریات کاقائل کیوں نہیں کرسکی ،جس نےقائل کیااسےعوام کااعتماد ملا ،آپ نےقائل نہیں کیا، تو خامی کہیں نہ کہیں آپکےاپنےاندر ہے ،لیکن آپ اس رستے زخم کوباہرکبھی نہیں لاسکتے، یہ میں خوب جانتاہوں ایک طرف،، ہندوتوا،،کاکارڈ بھی کھیلناہے دوسری طرف سیکولرازم کاراگ بھی الاپناہے آپ کسی ایک پٹری پردیرتک نہیں چل سکتے

دوستی اللہ سےبھی اوریارانہ شیطان سےبھی

اور خدشات ،خوف وڈر کی وہ فضاجو سیکولرپارٹیاں پیدا کرکے مسلمانوں کویرغمال بناناچاہتی ہے ،حقائق کی نگاہ اسے کب کی مسترد کرچکی ہے لیکن ہمارےدانشوروں کے نزدیک مصلحت وبزدلی کی چادرانہیں واشگاف نہیں ہونے دیتی اور جہاں تک ہندومسلم فضاکا ہموار ہوناہے اور اویسی یاان جیسےلوگوں کابادی النظر میں اشتعال انگیزبیان دینا دراصل ردعمل کی ایک مخصوص کیفیت کانام ہے جسے ہر زندہ شخص محسوس کرسکتاہے بشرطیکہ صحیح عقل اورادراکی قوی موجودہو.

اورسیاسی اعتبار سےبھی ایک موقع توان لوگوں کو دینا چاہیےجوپرانی پالیسی کےجادوئی طلسم کوتوڑناچاہتےہیں، ایک تجربہ میں کیارکھاہے تجربات توقوموں کی زندگی کاوہ اٹل لمحہ ہے،جس سےبالکل بھی مفرنہیں ،اور،،جناح اویسی،، کی سیاست میں کوئی موازنہ نہیں کیاجاسکتا وہ ہرطرح کے قانون سےآزاداورماوراء تھے،جبکہ اویسی ہندوستانی آئین و دستور کی بالادستی کوبسروچشم قبول کرتےہیں اس موضوع پر پھرکبھی سیرچشم بحث ممکن ہے.

مجلس

ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سےبارہاں مجلس کے نام ایجنڈہ اورپالیسی کولےکرنقد کیاگیاہے اور صحیح بات بھی یہی ہیکہ تجربہ جب آپ کررہےہیں توتجربہ کےآلات کافراہم ہونابہت ضروری ہے،ہرتعصب سےبالاترہوکرہی انسانی خدمت کی جاسکتی ہے قومی تشخص کےبقاء کی خاطربھی ہم غیر انسانی اور غیراخلاقی،، رویوں کوجواز کادرجہ نہیں دے سکتے اگرہم ایساکرتےہیں توہم خودداخلی تضاد کےشکارہیں اور اسکی اسلام میں بہرطورگنجائش نہیں ہے مجلس کےنام کےسلسلےمیں جس خدشہ کااظہارکیاجاتاہے اس میں مترد دین حق بجانب ہے مجلس کےنمائندہ اپنی پارٹی کےنام پرازسرنوغور کریں تاکہ مجلس کی افادیت میں چارچاند لگ جائے

دوسری بات پالیسیوں میں ترمیم جاری رہناچاہیے،مجلس کی پالیسیوں میں پہلی سی شدت اب نہیں پائی جاتی ہے جس کااقرار ہرخوردوکلاں کو ہے اوریہ خوش آئند اقدام ہے دراصل ہمارالیڈر ایک اشتعال انگیز بیان دیتاہے نتیجہ میں ہمیں بہت ساراخمیازہ بھگتناپڑتاہے شکست خوردہ قوموں کی ایک نشانی یہ بھی ہیکہ اسےجارحانہ رویہ بہت پسند آتاہے کہیں ہم اورآپ اس معیارپرپورےتونہیں اترتے.

مسلم نمائندگی

مجلس کی یہ جوشبیہ بنتی جارہی ہے کہ وہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ پارٹی ہے اس بات کےتئیں اسےاپناموقف بالکل واضح کردیناچاہیے کہ ہندوستان میں مختلف خیال کےلوگ بستےہیں اور سب کااتفاق ایک لیڈر شپ پر ممکن بھی نہیں ہے اسلیے جنہیں ہمارےنظریات سےمکمل اتفاق ہواوروہ اس کومفید گردانتاہوتوہمارے ساتھ چلےبقیہ جنکامقدرصرف ،،جلسوں کی دریاں،، سمیٹناہوان سےہمیں اللہ واسطےکی بیر ہے

Related posts