V.T. Rajshekarاختصاریۓ 

چیزوں میں جذبات کی آمیزش

ہمارے یہاں تو اب حد ہوچکی ہےکہ اب اچھی خاصی عقل
سےمتعلق چیزوں کوبھی جذبات سےجوڑ دیا جاتا ہے، اور کسی بھی نظریہ وموقف کوعقل کےغلاف میں پیش کرنےسے زیادہ بہتریہ سمجھا جاتا ہیکہ اس پر جذبات کالبادہ اوڑھا دیا جائے، اوربادی النظر میں استدلال کی میز پر اس سے زیادہ تیزبہدف نسخہ کوئی نہیں ہوسکتا، اور ایسا کرنے میں ہم یک بیک کئی ذمہ داریوں سےاپنا پلڑہ جھاڑلیتے ہیں ،فرائڈنےکہاتھاکہ ،،اسلوب لکھنے والےکی سوانح عمری ہوتی ہے ،،اگر اسے سچ مان لیا جائے تو ہماری سوانح عمری نرے جذبات کاملغوبہ بن کررہ جائیگی، جہاں کسی بھی نظریہ کی تحلیل،تجزیہ،نتائج اوردلائل لفظوں کےفسوں بن کررہ جاتےہیں، اور انتہاء توتب ہوتی ہے جب ترتیب میں اتنی غلطیوں کےبعد بھی ہماری خواہش ہوتی ہیکہ نتائج ہماری توقعات کےعین مطابق ہوں ،تجربات سے ہمیں اللہ واسطےکی بیر ہے ،ہم جب کہہ رہے ہوتے ہیں کہ وحی حاکم ہے عقل کیلیے تواس وقت ہماری مراد یہ ہوتی کہ مخاطب کی عقل کیلیے یہ مقولہ ہے،بقیہ ہماری عقل ہمارافہم ودانش مادر پدر آزاد ہے، اور وہ ان ساری بندشوں سے ماوراء ہے، اور حق صرف اس میں پنہاں ہے جو ہم کہہ رہے ہیں اور فریق مخالف کیلیے جو ہم ،،احترام،، کی مالا جپتے نہیں تھکتے، اس کی حقیقت بس اتنی ہے تاکہ اپنے اوپر لگنے والے الزام کا رخ بڑی آسانی سےدوسروں کی طرف پھیرسکیں دوجھوٹی تعریفیں کرنےوالے مخالف جب باہم شیروشکر ہوں توشہادت صرف سچ کو دینی پڑتی ہے ،اور چیزوں کو جذباتی بنادینے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہیکہ وہ اتنی مقدس بن جاتی ہیکہ اس کےخلاف بولنا سننا سوچنا سمجھنا اتنا بڑا جرم ٹھہرتا ہیکہ آپ کی توبہ بھی اس وقت تک مقبول نہیں ہوتی جب تک کہ آپ بالکل اس کی سروں میں اپنی سرملاکر یک آوازنہ ہوجائے، اوریہ ہر مخصوص نظریہ رکھنے والوں کاوہ کمزورجذباتی پہلوہےکہ ہرایک اس میں ملوث ہوتاہے، لیکن اس الزام کے تیروں کی بارش سہنےکیلیےصرف دوسرا تیار رہے، اورچیزوں کو جذباتی بناکرہم سب سےپہلےاس ذمہ داری سےخود کوسبک دوش کرتے ہیں کہ اب اس کے کھڑا کھوٹا کو پرکھنے کیلیے اس چیز کے تئیں فہم ودانش کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ صرف احساس کافی ہے ،نیز قدر احساس کا معیاروپیمانہ خود ساختہ ہوگا ،اورپھر اسی پر بس نہیں ہوگا بلکہ آپ جتناچاہیں اس باب میں حساس ہوں لیکن مخالف کاصرف یہ الزام کافی ہوگا کہ آپ کی حس بیدارنہیں ہے،دوسرا فائدہ اثبات مدعاء کیلیے دلائل کی پختگی کی ضرورت کم پڑیگی ،اوردلائل کے ان خلاء کو پر کرنے کیلیے جعلی طور پر آپ حسب منشاء جذبات کارنگ بھردیں ،اورتیسرا سب سے بڑا فائدہ یہ ہیکہ آپ نتائج سے بےپرواہ ہوجائنگے ،آپ کےموقف کےموافق نتائج برآمد ہو یا مخالف فاتح آپ ہی ہے،نتائج اگرتوقعات کےمعیار پر پورا نہ اترے تو بھی تفاخر کا بہترین موقع آپ ہی کے پاس ہےکہ

مقابلہ تودل ناتواں نےخوب کیا

اور ان ساری چیزوں کےبعد بھی کسی کیلیے یہ گنجائش نہیں بچتی کہ کوئی اس موقف پر یا طریقۂ کار پر سوالیہ نشان قائم کرسکے چونکہ جذبات کونتائج کی پرواہ نہیں ہوتی ہے ،مثبت نتائج کیلیےجذبات میں اعتدال اور یکسانگی ضروری ہوتی ہے، جذبات بذات خودایسی مضبوط اکائی ہے کہ اس کی وحدت ہرطرح کی شراکت سے بے نیاز ہوتی ہے ،اسی وجہ سےسب سےزیادہ نمائش وتجارت جذبات کی ہوتی ہے،طرہ یہ ہیکہ ہر چیز کو جذبات کےچشمہ سے دیکھنے والے لوگ بھی پروپیگنڈہ کا الزام ان لوگوں پرلگاتےہیں جن کو جذبات سے اللہ واسطےکابھی کوئی لینادینانہیں ہے، پروپیگنڈہ اورعیاری میں عقل اور جذبات کاہی فرق ہے،اسلئے کہ ،وقتی جذبات چورن فروخت کرنااسکی خمیر میں شامل ہے اورہمارے ہاں سب سے بڑا سورما بھی وہی ہے جو جذبات کی تجارت میں جتنا زیادہ ماہر ہے.