نصاب تعلیم اور چند معروضاتمضامین و مقالات 

نصاب تعلیم اور چند معروضات

عجیب طرہ ہیکہ جن کےاعتقاد کی اساس ہی اس پر مبنی ہیکہ کائنات کاحسن اس بات کےاندر پنہاں ہیکہ کائنات کی ہرشئے تبدیلی وارتقاء کےمراحل کوطے کرتی رہے, انہی کےسامنےجب نظام تعلیم, نصاب تعلیم میں اصلاح وترمیم کی گفتگوکی جاتی ہے توانکا سیدھا سا جواب ہوتاہے کہ ہم اکابرکےمنہج سے ذرہ برابر تخلف کو برداشت نہیں کرسکتے.

حالانکہ واقعیت کی نگاہ سےخود انکی زندگی کاجائزہ لیاجاۓ تواس بات کااندازہ لگانا کچھ بھی مشکل نہیں رہ جاتاکہ سارا معاملہ تن آسانی اورسہولت پسندی کاہے. میں نہ توسرے سےموجودہ نصاب کوکالعدم قرار دیتا ہوں اور نہ ہی بعینہ بغیر حشووزوائد کو حذف کیے اسکو قبول کرنےکی وکالت کرتاہوں.

سب سےاہم بات یہ ہیکہ ہم جس نصاب کوبھی تیارکریں اسمیں دوتین باتوں کامکمل لحاظ کریں. سب سےپہلی بات تویہ ہیکہ ہم نےجوثانویہ اور اعلی تعلیم دونوں کا ملغوبہ تیار کیاہوا ہے اور اسکو داخل درس کیے ہوے ہیں اسکویک قلم خارج کریں پھر دونوں کے درمیان ایک حد فاصل قائم کریں پھراعلی تعلیم اور تخصصات کےشعبوں میں باہم امتیاز پیداکریں پھرہرایک کےطریقۀ تدریس میں فرق پیداکریں.

کس حد تک طوطی کےمانند رٹناہے اور کس مقام پر مطالعہ کی عادت ڈالنی ہے اور کہاں پہونچ کر تحقیق وتدقیق اور دقت نظرسےکام لیناہے یہ ساری چیزیں طےکرنی پڑیگی, ہمارے یہاں مبتدی کےسامنےبھی مباحثہ کےانداز میں تدریس کی جاتی ہے اور موقوف علیہ کےطالب علم کورٹنےکاپابند بنایاجاتاہے.

دوسری بات ! چونکہ مدارس کامقصد ان نبوی اسا س پر ہے جو  ایک اسلامی معاشرہ کی تکمیل ہے جسکو آج سےچودہ سوسال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےعملی طور کردکھایاتھا.اس بات کوسامنے رکھنے کے بعد نصاب تعلیم مرتب کرتےوقت اس بات کاخاص خیال رکھاجائے کہ ایک عام انسان کواپنی زندگی کےجن شعبوں سےسابقہ پڑتارہتاہے ان سب کی مبادیات کوداخل درس ضرور کیاجائے.

تیسری اورآخری بات ! کہ اگر وقت اور زمانہ کی رفتار کو مدنظر رکھاجاۓ تو یہ بات یقینی ہیکہ ہرچیز کی تجدید ضروری ہےمدارس اسلامیہ میں جوفنون داخل درس ہے اسکی تجدید کی جاۓ اور اسکو زمانے کے اسلوب سے ہم آہنگ کیاجاۓ جیسے ہم علم کلام ضرور پڑھتے ہیں لیکن قدیم طرز پر۔ جدیدعلم کلام کانام سنتےہی ہمیں ایسی وحشت ہوتی ہے جیسےکوئی نامانوس چیز ہم نے سن لیاہے, حالانکہ جدید علم کلام کےداعی کوخبرنہیں ہیکہ مصالحہ ساراقدیم سےکشید کیا ہوا ہے۔

بس اسلوب کی جدت کےذریعہ اسےنیانام دیا جارہا ہے عقائد کےنام پرمعتزلہ و روافض کے پرانےاختلاف کو ذکر کیا جاتا ہے جوشاید اپنی موت آپ مرچکے ہیں.  وہیں ڈارون کا نظریہ ارتقاء, اورکیاکائنات کسی اتفاقی حادثہ کےنتیجہ میں وجود پذیرہوا, ان جیسےاہم کلامی موضوعات سے پتانہیں کیوں اغماض کیاجاتاہے, اسی طرح کی صورتحال کاسامنا فقہ البیوع کےساتھ برتا جاتا ہے.

طہارت اور صلوة کےمسائل کی ہرایک جزئیات سے واقف شخص سے جب اسلامی بینکاری کے مسائل دریافت کیے جائیں تووہ نہ صرف دم بخود رہ جاتاہے بلکہ اسطرح کےسوال کو وہ کسی اجنبی دنیاکی باتیں سمجھ کر اچنبھا ساہوجاتاہے. خیر”جدید صالح قدیم نافع”کےاصول پرکاربند رہتے ہوے ہمیں ان باتوں پر ازسرنوغور کرناہوگا اوردامن جھاڑ لیناتوکسی بھی مسئلہ کاحل نہیں ہے. یہ ان تمام لوگوں کیلیے ہے جنکاتعلق تعلیم سے ہے, بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ
اللہم اھدناالصراط المستقیم