مضامین و مقالات 

میں کن لوگوں میں سے ہوں؟ آئینہ حق کے روبرو

ہر انسان اپنے تیئں بڑے خوش فہمی کا شکار رہتا ہے، اپنے آپ کو صحیح سمجھنا، بہتر گمان کرنا، دوسرے سے اچھا ثابت کرنے کی کوشش کرنا یہ اس کی فطرت نہیں تو کمزوری ضرور ہے. الا من رحم ربي. و قليل ما هم. کچھ لوگ ایسے نہیں ہوتے۔ کچھ پاک طینت لوگ ہوتے ہیں جن کا ضمیر، دل، ایمان انھیں اس خصلت کو قبول کرنے نہیں دیتے۔ لہذا وہ لوگ اس قاعدہ سے ہٹ کر اپنی ایک الگ پہچان بنالیتے ہیں ایک الگ روش اور الگ رویہ کو اپناتے ہیں۔

یہ بڑے کمال کے لوگ ہوتے ہیں، بلکہ یہ بڑے کامیاب لوگ ہوتے ہیں، اپنی کمیوں پر نظر رکھنا، خود کی خامیوں کو ٹٹولتے رہنا، ذاتی کمزوریوں کو کھوجنا، اپنے عیوب کی چھان بین کرنا، ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ یا پھر دوسروں کو کھلے عام اجازت دیتے ہیں کہ تم وقفے وقفے سے مجھے آئینہ حق کے روبرو کرتے رہنا۔ یعنی میری خامیوں اور کوتاہیوں سے مجھے آگاہ کرتے رہنا, یہ ان کا طرزعمل ہوتا ہے. اور ایسا ہر کوئی کر بھی نہیں کرسکتا ۔ یہ ہر کس کے بس کی بات نہیں، اس کے لئے ” ابن الخطاب” رضی اللہ عنہ کا جگر چاہیئے جو کہا کرتے تھے “رحم الله رجلا اهدى الى عيوبي” اللہ تعالی اس بندے پر رحم فرمائے جو مجھے میرے عیوب تحفہ میں دے۔

ایسا کب ممکن ہے؟

ایسا تبھی ممکن ہے جب انسان واقعی میں اپنی ذات کے ساتھ مخلص ہو، دوسرے میرے بارے میں کیا رائے اور کیا گمان کرتے ہیں یہ اتنا اہم نہیں، جتنا اہم یہ ہے کہ میں اپنے بارے میں کتنی صحیح، درست اور ٹھیک ٹھیک رائے رکھتا ہوں، کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ میں خود کیا ہوں؟ ۔

“من آنم کہ من دانم” میں جانتا ہوں کہ میں کون ہوں؟ یا کیا ہوں؟ تو پھر میں کسی خوش فہمی میں رہکر خود فریبی کا شکار نہیں ہوسکتا۔

اس طرز کو اپنانے والے کون تھے؟

سلف صالحین کا گروہ وہ گروہ تھا جن کا رویہ اور سلوک خود اپنے آپ کے ساتھ بھی بڑا سخت تھا وہ کسی قسم کی خوشی فہمی کو اپنے اندر پالتے نہیں تھے، اور نہ “من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو” میں تم کو حاجی صاحب کہتا ہوں تم مجھے حاجی صاحب کہنا” والے فارمولے پر عمل پیرا نہ تھے۔ ان کا حال ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے یوں بیان کیا ہے۔ 《قال ابن أبي مليكة: أدركتُ ثلاثين من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كلهم يخاف النفاق على نفسه》

وہ کہتے ہیں, میں نے تیس صحابہ کو پایا سب کے سب اپنے نفاق کو لیکر خوفزدہ تھے, یعنی سب ڈرتے تھے کہ کہیں میں منافق تو نہیں؟


انبیاء ورسل کے بعد تاریخ انسانیت کے سب سے زیاد صالح ترین معاشرہ کے افراد ہوکر، اپنی بے پناہ خوبیوں، کمالات، اعمال، قربانیوں اور کارناموں کے باوجود رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ کا خطاب پانے کے بعد ان کا یہ احساس اور ان کا یہ شعور تھا۔

دوسری طرف یہ اکیسویں صدی کا معاشرہ ( دیار منافقین ) جہاں علم کم جہالت زیادہ، عمل کم چرچا زیادہ، اخلاص ناپید دکھاوا زیادہ, پھر ہم جیسا منافق اپنے آپ کو صحابہ کے نہیں تو کم از کم تابعی کے ہم مرتبہ، یا ہم پلہ سمجھ بیٹھا ہے، اپنے ایمان وعقیدہ کو لیکر، اپنے گفتار وکردار کو لیکر، اپنے فہم وفراست کو لیکر، الأمان الحفیظ ۔۔۔۔

سلف اور خلف کی سوچ میں اتنا بڑا فرق کیوں؟ کیونکہ ہمیں تو صرف اتنا معلوم یے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں، بعض روایت کے مطابق چار، اس حدیث کی بنیاد پر ہم اپنا فیصلہ خود کر لیتے ہیں اور نفاق سے بری ہونے کا سرٹیفیکیٹ بھی حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ اگر اس حدیث کو بھی بنیاد بناکر حقیقی معنوں میں فیصلہ کیا جا ئے، تب بھی ہمارا نفاق جگ ظاہر ہوگا، جبکہ اس حدیث کے علاوہ بھی منافق کی دسیوں علامات بتائی گئیں ہیں اس پر ہماری کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

اسی لئے خود کو مؤمنِ کامل، مسلمِ حقیقی تصور کر بیٹھتے ہیں. سلف منافق نہیں تھے پھر بھی خوفزدہ رہتے یہ ان کی عاجزی اور خاکساری تھی اور ہم ہیں پھر بھی خوش فہمی اور خود فریبی کا اس قدر شکار کہ اعتراف و تسلیم تک نہیں کرسکتے۔

اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

اقبال نے ہم جیسے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے ہی کہا تھا،

تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارہ

تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے “حاسبوا انفسكم قبل ان تحاسبوا ” اپنا حساب خود کر لو تمہارے حساب لئے جانے سے پہلے۔ چنانچہ سلف اپنے محاسبہ کو لیکر بہت سنجیدہ تھے جب کبھی کسی فریضہ میں کوتاہی ہوتی یا انجانے میں کسی معصیت کا ارتکاب کرلیتے تو اس کی تلافی کے لئے لمبی لمبی عبادتیں کرتے۔


ابن عمر کے بارے میں ” حلیۃ الآولیاء ” 1/303 میں لکھا ہے اگر کسی وجہ سے عشاء کی جماعت چھوٹ جاتی تو اپنے آپ کو ادب سکھانے یا سزا دینے کے لئے ساری رات عبادت کرتے۔ راہ چلتے ہوئے گھوڑے، خچر یا اونٹ کو ٹھوکر لگتی تب بھی اپنے گناہوں, غلطیوں پر غور کرتے۔ کثرت سے توبہ واستغفار۔

تھذیب التھذیب ” 2/ 424 میں اعمش رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ قریب قریب ستر سال تک ان کی کوئی تکبیر تحریمہ نہیں چھوٹی. راوی وکیع ابن الجراح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں خود ساٹھ سال تک ان کے پاس آتا جاتا رہا کبھی کسی ایک رکعت کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کہتے ہین افضل عمل وہ ہے جو طبیعت پر بھاری پڑے، یا جس کے کرنے پر مزاج آمادہ نہ ہو۔

آج ہمارا تمام تر وقت دوسروں کا محاسبہ اور مؤاخذہ کرنے میں گذر جاتا ہے، اس بات کا فیصلہ کرنے میں گذر جاتا ہے کہ کون کون حق پر اور کون کون باطل پر؟ اس کا منہج کیا ہے؟ تیرا منہج کیا ہے؟ اس کی نماز ہوئی یا نہیں ہوئی؟ فلاں نام کا سلفی ہے کام کا نہیں۔

غرض اس کو لکھتا جاوں تو فہرست بڑی لمبی ہو جائیگی۔مختصر ایں کہ ہم محاسبہ تو بہت کرتے ہیں، عمل کو بہت پرکھتے ہیں، نیتوں کا جائزہ بھی خوب لیتے رہتے ہیں، لیکن خود کا نہیں دوسروں کا۔ کبھی ہمیں اس بات کی بھی توفیق ہوتی ہے؟ کہ ہم اپنے آپ سے سوال کریں۔

آج ہماری کتنی فرض نمازیں سنت مؤکدہ کے ساتھ، تکبیر تحریمہ کے ساتھ، پہلی صف میں کھڑے ہو کر ہوئیں؟ سنت نمازوں میں کون کون سی نمازیں ہم نے پڑھی؟ اشراق کی؟ چاشت کی؟ عصر سے پہلے چار, مغرب سے پہلے دو وغیرہ۔آج ہم نے قرآن مجید کی کتنی تلاوت کی؟ کتنا تدبر کیا؟

کیا آج ہم نے صبح وشام کے اذکار افضل اور اول وقت میں پڑھے؟ کیا آج ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا ہے؟ پڑھا تو کتنی بار؟ کیا ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا جو دعوی کرتا ہیں اس کے حساب سے اتنا کافی ہے؟

کیا آج ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مرتبہ استغفار پڑھا؟ اپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہوکر ، اللہ کی سب سے زیادہ عبادت کرنے والے، اگلے پچھلے گناہوں کی معافی ملنے کے باوجود سو سو بار استغفار کرتے تو مجھے کتنی بار کرنا چاہیئے؟

کیا شب وروز میں پڑھی جانے والی ساری دعائیں ہمیں صحیح اور درست طور پر یاد ہیں؟ اگر یاد ہیں تو کیا واقعی میں ہم اس کو برابر پڑھتے ہیں؟ اور جو پڑھتے ہیں، کیا اس کو سمجھتے بھی ہیں؟


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ کیا واقعی ہم ایسے ہیں کہ ہم کسی دن اس پر غور کریں کہ۔ کیا ہم نے آج کسی کو گالی نہیں دی؟ کسی کو طعنہ نہیں دیا؟ کسی پر طنز نہیں کیا؟ کسی کا مذاق نہیں اڑایا؟ کسی کی غیبت نہیں کی؟ کسی پر الزام نہیں لگایا؟ کسی کی تحقیر، تذلیل، تضلیل، تنقیص نہیں کی؟

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی انسان کے اسلام پر صحیح طور پر قائم رہنے کی علامت یہ ہے کہ جو کام اس سے متعلق نہیں ہے اسے چھوڑ دے۔ یعنی غیر متعلقہ کاموں سے بچے۔ کیا ہم ایسا کرتے ہیں؟ یا پھر ہمارا رویہ یہ ہے, مان نہ مان میں تیرا مفتی، مان نہ مان میں تیرا قاضی ۔ مان نہ مان میں تیرا استاد۔ یہ احادیث ہمارا امتحان لے رہی ہے۔

اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا دین دنیا کا سب سے افضل ترین دین ہے. ہمارا منہج کائنات کا سب سے بہترین منہج ہے۔تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس پر عمل کر کے دکھائیں، بحث کرکے نہیں۔ اگر ہم عمل کر کے دکھانے میں ناکام ہیں تو اس پر بحث کرنا بھی چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ جو دین، جو عقیدہ، جو منہج ہمیں نہیں بدل سکا وہ دوسروں کو کیا بدلے گا؟ ہاں بحث کرکے کسی کو قائل کر لو تو ایک بحث کرنے والے کا اضافہ ہو جائیگا۔

دوسروں کی فکر ہم چھوڑ دیں اس وقت ہم خود اپنی تربیت کے محتاج ہیں, اس وقت ہم میں عمل کی کمی ہے, تربیت میں کھوکھلاپن ہے ۔

دوسروں کے حوالے سے ہمیں صرف اتنا کہا گیا کہ ہم نیکی کے، خیر کے، بھلائی کے راستے کی رہنمائی کریں اور شر سے، برائی سے، بدی سے لوگوں کو آگاہ کریں خبردار کریں۔ ہماری ذمہ داری یہاں ختم ہو جاتی ہے *(یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ عَلَیۡكُمۡ أَنفُسَكُمۡۖ لَا یَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا ٱهۡتَدَیۡتُمۡۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِیعࣰا فَیُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ) * سورة المائدة أية 105

مسلمانو ! ( یاد رکھو ) تم پر فقط تمہاری جانوں کی ذمہ داری ہے ( تم دوسروں کے کاموں کے لئے ذمہ دار نہیں ہو سکتے اور نہ دوسرے تمہارے کاموں کے لئے ذمہ دار ہیں ) اگر تم سیدھے راستے پر قائم ہو ، تو کسی کا گمراہ ہونا تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ( اور بالآخر ) تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے ( اس دن ) وہ بتا دے گا کہ تمہارے کام کیسے کچھ رہے ہیں۔ ( ترجمہ : مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ )

اب ہم فیصلہ کریں ہم کن لوگوں میں ہیں؟ ہمارا زیادہ وقت کس میں گذرتا ہے۔