مضامین و مقالات 

عالم اسلام کی کشمکش اور ہمارا رویہ

موجودہ حالات میں عالم اسلام ایک بڑی سیاسی کشمکش میں مبتلا ہے. دنیائے اسلام تین خانوں میں بٹی نظر آرہی ہے ایک گروہ ایرانی رجیم کے کرتوت کی بھر پور تائید کرتی ہے, دوسرا گروہ ترکی کو اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہے, جبکہ تیسرا گروہ آل سعود کو اپنا پیشوا مان رہی ہے.

ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں آج عالم اسلام میں سیاسی اعتبار سے تین نظریات پائے جاتے ہیں. 1) ترکی نظریہ, 2) سعودی نظریہ, 3) ایرانی نظریہ.


پہلا *ایرانی نظریہ* جو کہ دراصل شیعہ روافضیوں کا نظریہ ہےجو ہر حال میں ہمارے لئے ناقابل قبول ہے. حال ہی میں ایران نواز شیعی دہشتگردوں نے ملک شام کےادلب میں اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی بیوی حضرت فاطمہ کی قبروں کو کھود کر دونوں کے جسم مبارک کی بےحرمتی کی اور ساتھ ہی مزار کو بھی جلا دیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے.
اب رہا *ترکی نظریہ*! جس کو عالم اسلام میں جماعت اہلحدیث کے علاوہ تمام سنی مسالک وجماعت کی بھرپور حمایت حاصل ہے خصوصا اخوان المسلمین وغیرہ کی, ہمارے لئے غور طلب بات یہ ہے کہ ترکی جس کی چند سال قبل تک ہر کوئی مذمت کیا کرتا تھا آج طیب اردگان کے آنے کے بعد تعریف تحسین کیوں کررہا ہے? کیو نکہ اس مرد مجاہد کے آنے سے عالم اسلام میں امید کی ایک نئی کرن جاگی تھی.

طیب اردگان زمام اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد سے ہی عالم اسلام کے مسائل میں دلچسپی لینے لگے. جہاں مسلم دنیا کی حمایت میں آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس ہوئی آواز اٹھائی, جہاں مدد کی ضرورت پڑی مدد بھی کی, نتیجتا عالم اسلام کے ہیرو کے شکل میں ابھرے,
جامعہ ازہر کے فارغ التحصیل, حافظ قران جناب طیب اردگان ترکی کی زمام اقتدار سنبھالتے ہی نہ صرف ترکی میں کئی دیہائیوں سے چل رہے اسلامی شعائر پر پابندی کو ختم کیا بلکہ تُرک عوام میں دینی شعور وحمیت کو بھی اجاگر کیا. جس کو عالم اسلام سے باخبر ادنی سا قاری بھی جانتا ہے.

اب تیسرا *سعودی نظریہ*! اس نظریہ کے حاملین جماعت اہل حدیث ہیں. روئے زمیں پر کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات آل سعود کی ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا, لیکن حالیہ دور اور امت مسلمہ دیگر اور مسائل کا بھی متقاضی ہے جس کی طرف آل سعود جان کر بھی انجان بننے کی کوشش کررہے ہیں .
ہم اس بات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنی سیاسی کرسی بچانے کےخاطر لاکھوں مسلمانوں کا قاتل امریکہ سے نہ صرف ان کی دوستی ہے بلکہ ان کے ہزاروں خونخوار فوجیوں کا گھر بار بھی آل سعود کے خزانے سے چل رہا ہے. یہ کون سی اسلامی پالسیی ہے. اس کے علاوہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد صورتحال اور ابتر ہو چکی ہے جسے ہم اور آپ سب جانتے ہیں.
ایرانی روافض کا عقیدہ “تقیہ” کی دہائی دینے اور آل سعود کی حمایت میں اپنے تن من دھن کی بازی لگانے والے حضرات سعودی و امریکہ دوستی پالیسی پر کیا کہیں گے جبکہ فرمان خداوندی ہمارے سامنے ہے یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی اَوْلِیَاء. یہی وجہ ہے کہ آج آل سعود سب کی آنکھوں میں چبھ رہے ہیں اگر آج بھی آل سعود اپنی ذاتی, خاندانی اور سیاسی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر عالم اسلام کے مفاد کی خاطر کام کریں تو پھر سے عالم اسلام کا بچہ بچہ انہیں اپنی پلکوں پر بٹھائےگا.

دینی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی حکومت دنیا کی سب سے بہترین حکومت ہے. کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت میں ان کا اپنا مقام ہے. اور سب سے بڑھ کر حرمین شریفین کی خدمت ان کے ذمہ ہے یہی وہ باتیں ہیں جو ان کے عزت و مقام بلند کرتی ہے اور عالم اسلام کے دلوں میں ان کی عقیدت و محبت برقرار رکھتی ہے لیکن سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان سے کئی ساری غلطیاں بھی سرزد ہورہی ہیں.
جبکہ سیاسی اعتبار سے مسلم دنیا میں سب سے اثر آور طاقت ترکی ہے اس کو ہم بھی اچھی طرح جانتے ہیں لیکن دینی اعتبار سےترکی ابھی سعودی کے بالمقابل کافی پیچھے ہے یہ بھی اپنی جگہ مسلم ہے.


دراصل عوامی سطح پر اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ترکی اور آل سعود کی کشمکش کوئی دینی نہیں ہے بلکہ سیاسی ہے. ہر کوئی اپنے سیاسی مفاد کی خاطر (نظریاتی ہی صحیح) باہم دست گریباں ہیں.

اگر ایک طرف آل سعود اپنی حکمرانی کی برقراری کے پیش نظر عالم اسلام کے دیرینہ دشمن امریکہ کو اپنا دوست سمجھتی ہے تو دوسری طرف ترکی اور ترکی نواز اخوان المسلمین *ایرانی رجیم* جیسے فطین سے ہاتھ ملانے میں ہی عافیت سمجھ رہی ہے.اس ہمیں ان کا آلہ کار بننے سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا.