خبریں 

عالمی سربراہی امریکہ سے چین منتقل ہونے کی آہٹ

کئی دہائیوں سے عالمی نظام پر اپنا تسلط برقرار رکھنے والا امریکہ اب اس فکرمیں ہےکہ کہیں یہ سربراہی ان سےچھن کر چین کے جھولی میں نہ جاگرے. عالمی سیاسی گلیاروں میں اس بات کو لےکر چہ مگوئیاں شروع ہوچکی ہیں جس کااعتراف حال ہی میں یورپی وزیر خارجہ جوزف بوریل نے کیا.

جوزف بوریل کے مطابق تاریخ میں کووڈ-19 کی وبا کو ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جائے گا جب دہائیوں بعد امریکہ دنیا کی رہنمائی کرتا ہوا نظر نہیں آرہا ہوگا. انھوں نے کہا ہے کہ ایسے کئی شواہد موجود ہیں کہ چین عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کی جگہ لے رہا ہے.


جوزف بوریل کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین ہانگ گانگ میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے سکیورٹی کے حوالے سے نئے قوانین بنا رہاہے.

جوزف بوریل نے یورپی یونین کو یہ بھی انتباہ دیا کہ سیاسی گلیاروں میں جس ’ایشائی صدی‘ کی آمد کی پیشگوئی ہو رہی تھی, اس کا شاید کورونا کی وبا کے دوران ظہور ہو چکا ہے. اب یہی وقت ہے کہ یورپی یونین کے مفادات پیش نظر چین کے حوالے سے ایک مضبوط پالیسی بنائی جائے۔

امریکہ اور چین کے درمیان تلخ بیانات سے آنے والے دنوں میں دنیا کی معیشتوں پر کتنا اثر ہوگا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ ان دونوں ممالک کی آپسی رقابت سے UNO جیسے عالمی ادارے کو اس مشکل گھڑی میں اپنا کردار ادا کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔