زکوٰة نہ دینے کا نقصانمضامین و مقالات 

زکوٰة نہ دینے کا نقصان

زکوٰة اسلام کا اہم رکن ہے ‘یہ ہر ایسے مسلمان پر فرض ہے جو صاحب نصاب ہو یعنی ضرورت اصلیہ سے زائد اتنا مال بچ جائے جو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو اور اس پر سال گذر جائے تو اب اس کا چالیسواں حصہ نکالنا فرض ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالی نے آسودگی عطاکی ‘تمام ضرورتیں آپ کی پوری ہوئیں اور اس کے باوجود آپ کا مال بچ گیا تو اب اس کے شکریہ میں غریبوں اور محتاجوں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے چالیسواں حصہ مال دیا جائے اور اپنے ساتھ اللہ کے ضرورت مندوں کو بھی یاد کیا جائے.

ورنہ کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں ‘پریشان حال ہیں ‘شب وروز کے لمحات کشمکش میں گذر رہے ہیں ‘اللہ تعالی کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے آپ کو اتنا مال دیا کہ سال بھر آرام سے کھا پی کر ساری ضروریات پوری کرکے بھی مال بچ گیا تو اب قرآن کہتا ہے کہ غریبوں پر رحم کرتے ہوئے ان پر مال خرچ کرو اس سے اللہ کے دیئے ہوے مال کا شکر بھی ہوگا اور باقی ماندہ مال پاک بھی ہوجائے گا.


اس لئے کہ جب بقدر نصاب مال پر سال گذر جاتا ہے تو شریعت کی نظر میں وہ مال گندہ ہوجاتا ہے جب تک اس سے زکوة نہ نکالی جائے اس وقت تک وہ مال پاک نہیں ہوتا لیکن جب چالیسواں حصہ مال نکال دیا گیا تو باقی مال پاک ہو گیا ‘اس کی برکت سے آپ کا گھر ‘اولاد ‘تجارت ‘معاش اور دیگر تمام چیزیں حادثات اور پریشانیوں سے محفوظ رہیں گی ‘غیب سے ان کی حفاظت کا انتظام ہوگا ‘مال میں برکت ہوگی اور ایک کے بجائے اللہ ہزاروں دے گا ‘اس لئے کہ زکوٰة کے معنی بڑھنے کے بھی آتے ہیں تو گویا زکوة دینے سے مال پاک بھی ہوتا ہے اور اس سے مال بڑھتا بھی ہے.

لیکن اگر زکوة ادا نہ کی جائے تو اس کے بھیانک نقصانات اٹھانے ہوتے ہیں ‘آخرت میں اس کا نقصان یہ ہے کہ اس کے مال کو گنجا زہریلا سانپ بنادیا جائے گا جو اس کو قبر میں ڈستا رہے گا اور کہے گا میں تمہارا مال اور تمہارا خزانہ ہوں جو تم نے دنیا میں جمع کرکے رکھا تھا اور پھر روز محشر بھی اس فرض کے ترک کا حساب دیناہوگا اور خسارہ ہی خسارہ ہوگا۔

دنیوی اعتبار سے بھی زکوة نہ دینے کے بہت سے نقصانات ہیں جن میں اہم نقصان یہ ہے کہ اس سے پورا مال گندہ ہوجاتا ہے اور اس کے سبب پورا مال ہلاک اور برباد ہوجاتا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ کو فرماتے ہوے میں نے سنا :”زکوٰة کبھی کسی مال کے ساتھ نہیں ملتا مگر اس کو ہلاک کردیتا ہے”۔ ( مشکٰوة۔1793)

آپ ۖ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر چالیسواں حصہ کوئی نہیں نکالتا ہے اور اپنے بخل کی وجہ سے مال کو اپنے پاس پکڑ کر رکھتا ہے تو وہ چالیسواں حصہ جو غریبوں کا حق تھا باقی ماندہ مال میں مل جاتا ہے اور اس کی وجہ سے پورا مال منحوس ہوجاتا ہے ‘گندہ ہوجاتا ہے پھر اس کی وجہ سے پورا مال ہلاک اور برباد ہوجاتا ہے ۔

برباد ہونے کی شکل یہ ہوتی ہے کہ گھر میں کوئی بیمار ہوگیا جس کے علاج میں ساری دولت چلی گئی ‘کچھ پیسے ڈاکٹروں کی فیس میں کچھ دوا خریدنے میں کچھ چیکپ کرانے میں ‘پریشانیاں تو ہیں ہی لیکن ان کے ساتھ مال بھی ضائع ہورہا ہے.


اسی طرح اس کی نحوست سے چلتا ہوا کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے ‘اچانک کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس سے کافی تجارتی نقصان ہوجاتا ہے اور سالوں کا کمایا ہوا نفع ایک دن میں ختم ہوجاتا ہے’اسی طرح چلتے چلتے کبھی ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے اور عظیم نقصان سے دوچار ہوجاتا ہے ‘کبھی کسی نے قرض لیا اور اب وہ واپس نہیں کررہا ہے اور اس کے لئے پریشان ہورہا ہے ‘کوئی سامان خریدا اسے کم از کم پانچ سال چلنا چاہئے لیکن چھ مہینے میں ہی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے گویا اس سے برکت اٹھالی جاتی ہے ‘کوئی بھی کام کرنے کے لئے گئے تو اس میں رکاوٹ آجاتی ہے یا ایک کی جگہ دس خرچ کرنا پڑتا ہے.

اس طرح ہزاروں شکلیں ہوتی ہیں کہ تکلیف اور پریشانی بھی آتی ہے اور اس کے ساتھ رفتہ رفتہ سارا مال تباہ بھی ہوجاتا ہے ‘انسان کا ذہن وہاں تک نہیں پہنچ پاتا کہ یہ ساری پریشانیاں ان ہی کے عمل کا نتیجہ ہے اگر وہ اپنے مال کی زکوة حساب سے نکالتا تو صرف چالیسواں حصہ ہی نکالنا ہوتا اور اس کی برکت سے پورا مال محفوظ ہوجاتا. چالیسواں حصہ بچانے کے چکرمیں پورا مال برباد ہوجاتا ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت کے عذاب میں بھی گرفتار ہوتا ہے۔

زکوة اہم ترین فرض ہے اس کی تاکید قرآن و حدیث میں باربار آئی ہے ‘جس طرح بدنی عبادت میں نماز اہم ترین فرض ہے ویسے ہی مالی عبادات میں زکوة کو اہمیت حاصل ہے اسی لئے قرآن میں جہاں جہاں نماز کا تذکرہ آیا ہے اکثر جگہوں میں اس کے ساتھ زکوة کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے اور اس کے نکالنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی اس کی مکمل تفصیلات موجود ہیں ‘حدیث کی تقریبا تمام کتابوں میں زکوة کا باب قائم کیا گیا ہے جس میں مختلف احادیث منقول ہیں ۔فضائل اور ترغیب کے ساتھ سونا چاندی ‘اونٹ ‘بکری ‘گائے اور مختلف اجناس کا نصاب بیان کیا گیا ہے جو اس کی اہمیت کی بات ہے ۔

فقہ کی کتابوں میں مکمل جزئیات اور تفصیلات موجود ہیں اور کوئی ایسا گوشہ نہیں جس کو فقہاء کرام نے احادیث کی روشنی میں بیان نہ کیا ہو۔


ایک مسلمان کو چاہئے کہ طبعی طور پر انفاق اور راہ خدا میں خرچ کرنے کا مزاج پیدا کرے ‘چالیسواں حصہ تو آخری درجہ کی چیز ہے ‘اس سے بھی ہٹ کر خوب خرچ کرے جتنا خرچ کرے گا اللہ تعالی اسے اتنا مال دے گا ‘اس کے خزانہ میں کوئی کمی نہیں وہ ایک کا بدلہ دس اور نیت کے اعتبار سے سیکڑوں عطا کرتا ہے.

صحابۂ کرام کے کیسے کیسے واقعات کتابوں میں منقول ہیں کہ وسائل کی کمی کے باوجود اتنا مال اللہ کے راستے میں دیتے کہ انہیں فقر کا خوف ہی نہیں ہوتا ‘وہ کل کے بارے میں کبھی نہیں سوچتے اور اس کی برکت سے ساری بیماریوں اور مشکلات سے اللہ انہیں محفوظ رکھتا تھا ‘خود رسول اکرم ۖ تیز آندھیوں کی طرح انفاق کرتے خاص طور پر رمضان المبارک کے مہینے میں آپ ۖ خوب خرچ کرتے۔

رمضان کا مبارک مہینہ اللہ نے ہم سب کو عطا کیا ہے اس میں روزہ اور تراویح کے ذریعے ہم اللہ کو راضی کریں وہیں زکوة اور انفاق کوبھی مضبوطی سے تھام لیں اور خوب خرچ کریں تاکہ ہمارا سارا مال پاک ہوجائے اور پریشانیوں سے حفاظت کے ساتھ اخروی کامیابی بھی حاصل ہو جو اصل کامیابی ہے اور ایک مسلمان کے لئے سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

حضرت عمر فاروق ص کے دور خلافت میں حضرت عبیدہ بن جراح ص ملک شام کے گورنر تھے ، یہ علاقہ بڑا زر خیز اور خوشحال تھا :

” حضرت عمر ص ملک شام کے دورے ایک مرتبہ تشریف لے گئے ؛ تاکہ وہاں کے مسلمانوں کے دینی وخارجی احوال سے واقف ہوسکیں ، خلیفة المسلمین نے حضرت عبید بن جراح ص سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں آپ کا بھی گھر دیکھوں ، ملک شام کے گورنر مسلمانوں کے خلیفہ کو لے کر چلے ، شہر کے اندر سے گذرکر آباد کے ایک کنارے کھجور کے پتوں سے بناہوا ایک جھونپڑا دکھایا اور فرمایا امیر المؤمنین ! میں اس میں رہتاہوں ، عمر فاروق ص اندر داخل ہوے تو اندر ایک مصلی کے علاوہ کچھ بھی نہ پایا ، پوچھا کہ ابو عبیدہ ! یہاں تو کوئی ساز و سامان نہیں ہے ، یہاں کیسے رہتے ہو ؟


جواب دیا کہ یہ مصلی ہے ، اس پر نماز پڑھ لیتاہوں اور رات کو اسی پر سوجاتا ہوں اور پھر چھیر سے ایک پیالہ نکالتے ہوے کہا کہ اس میں میں کھانا کھاتا ہوں ، عمر فاروق ص نے دیکھا کہ اس میں پانی بھراہوا تھا اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے بھیگے ہوے تھے ، ابو عبیدہ ص نے مزید وضاحت کرتے ہوے کہا : امیر المؤمنین ! میں دن رات تو حکومت کے سرکاری کاموں میں مصروف رہتاہوں ، کھانے وغیرہ کے انتظام کرنے کی فرصت نہیں ہوتی ، ایک خاتون میرے لئے دو تین روٹی ایک وقت پکا دیتی ہے ، میں اس روٹی کو رکھ لیتاہوں اور جب وہ سوکھ جاتی ہے تو میں اس کو پانی میں ڈبودیتا ہوں اور رات کو سوتے وقت کھا لیتاہوں ،

یہ روداد سن کر اور تواضع و سادگی دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق ص رونے لگے اور فرمایا : خدا کی قسم ! تم ویسے ہی ہو جیسے رسول اللہ ا کے زمانے میں تھے ، اس دنیا نے تم پر کوئی اثر نہیں ڈالا ” (سیر اعلام النبلاء : ٧١)

ملک شام میں دولت کی ریل بیل تھی ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح ص وہاں کے گورنر تھے ، پورے ملک پر ان کی حکومت تھی ، وہ جب اور جتنا چاہے مال و دولت جمع کرسکتے تھے ؛ لیکن دولت کے ڈھیر میں بھی رہ کر انہوں نے کبھی دنیوی آسائشوں کو ترجیح نہیں دی ، ان کی نظر آخرت کی راحت اور وہاں کی ابدی نعمتوں پر تھی ؛ اسی لئے وہ سادہ زندگی گذارکر دنیا سے رخصت ہوگئے ، مگر کبھی دنیا نے ان کو آلودہ نہیں کیا ، ان ہی لوگوں کے بارے میں شاعر نے کہا ہے :

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

بازار سے گذرا ہوں خریدار نہیں ہوں

سارے مسلمانوں کو اپنے اندر یہی صفت پیدا کرنی چاہئے کہ دنیا اور مال و دولت اگر حاصل بھی کرے تو اس سے دل نہ لگائے ، اس میں مصروف ہونے کی وجہ سے کوتاہی اور غفلت کا شکار نہ ہوجائے ، دین اور آخرت کی طرف دوڑ لگانے میں کہیں پیچھے نہ رہ جائیں ، بلا شبہ مال و دولت اللہ کی عظیم نعمت ہے ، مگر اس کو ایک حدمیں رہتے ہوے استعمال کیجئے ‘زکوة ‘صدقات ‘عطیات اور راہ خدا میں مختلف مدات میں خرچ کیجئے’ عمل کی طرف سبقت کیجئے اور یاد رکھئے کہ دولت جس طرح خدا کو دینا آتا ہے ، اسی طرح وہ چھیننا بھی جانتا ہے ، دولت پر اعتماد کرتے ہوے اگر رب کو فراموش کردیا گیا ، تواضع اور انکساری کے بجائے کبر و نخوت دماغ میں پیدار کرلی گئی تو پھر خدا کی گرفت سے دنیا کی کوئی طاقت نہین بچاسکتی ۔

Written by 

استاذ حدیث دارلعلوم سبیل السلام حیدرآباد و صدر نشین تحفظ سریعت فاؤنڈیشن تلنگانہ و آندھرا پردیش