مضامین و مقالات 

رسل کےفکرانگیزمضامین اورمیراذاتی تاثر

۷لاک ڈاون کے دوران فرصت سےپڑھی گئی کتابوں پرتبصرہ کاخواہاں تھا،لیکن دیگرامورمیں مصروفیت کی بنیادپر ایساممکن نہیں ہوا،توسوچاسردست جس کتاب کی ورق گردانی سےفرصت ملی ہے ،اسی پرمختصرتبصرہ احباب کی خدمت میں پیش کردوں ، گرچہ طبیعت پرنمائش کی چیزیں گراں بارہوتی ہیں ،،رسل ،،کےعمدہ اورچیدہ مضامین کاترجمہ جو قاضی جاوید صاحب نےکیاتھا، اس کی تلاش میں سرگرداں تھا، لیکن بجائےاسکے ،،جمشید اقبال ،، نے جومضامین منتخب کئےہیں ،،رسل کےفکرانگیز مضامین ،،کےنام سے ان کے شاہکارمضامین اوربعض نسبتا غیرمعروف مضامین کامجموعہ دستیاب ہوا، جس میں مترجم نے ،،برٹرینڈ ارتھرولیم رسل ،،کےبالترتیب مندرجہ ذیل تیرہ مضامین کاترجمہ کیاہے.

1 مقصد حیات
2 تصوف اورمنطق
3 مسموم تصورات اورجذبات
4 احتساب ذات 1967
5فکری تنگ نظری کاعلاج
6 نفسیات اور سیاست
7 سائنس اورثقافت کی جنگ
8 نابغہ کہلانےکانسخہ
9 تہذیب کاارتقاء مختصرتاریخ
10 انسانی خواہشات کی سیاسی افادیت
11 ایٹمی ہتھیاراورعالمگیرناپیدگی کاخوف
12 دورتشکیک اوردانشورکی ذمہ داریاں
13 مزاحمت فروخت

یہ کل تیرہ مضامین ہے جس کاانتخاب مترجم کےذوق کی مرہون منت ہے ،ابتدائیہ ،تعارف،اور،، رسل،، کی فکری قلابازیوں کی طویل داستان مترجم کی خانہ زادہیں، لیکن رسل کےبعض مندرجہ مضامین انکی فکرکااعلی شاہکارہیں ،مقصد حیات کی تشریح پھراسےواقعیت کےپیرہن میں ڈھالنا ،محبت کےعالمگیرجذبہ سےاس کارشتہ استوارکرنا،پیکرفن کی اپنی ہی جولانگاہ ہے، تصوف ومنطق کی بحث میں اسکےافادیتی پہلوپر خوب واضح اندازمیں بحث کی ہے، فلسفےکی ساری فکروں پرتیشہ زنی کی، سوائےصوفی فلسفہ کے، لیکن وہاں بھی انصاف کےدامن سےپہلوتہی نہیں برتی ،بلکہ اپنےخدشات وتحفظات کواہل علم کی بابصیرت نگاہ کےسامنےسینہ سپر کردیا،بایں ہمہ کچھ بنیادی نوعیت کےحامل سوال کوان الفاظ میں اٹھایا،، اس طرح صوفی فلسفہ کی جانچ پڑتال کیلیےچار بنیادی سوالات سامنےآتے ہیں

کیاعلم حاصل کرنےکےدوذرائع ہیں عقل اوروجدان ؟اوراگرہاں تو ان دونوں میں سے کس کوفوقیت دی جاسکتی ہے ؟

کیاکثرت اورتقسیم فریب ہے ؟جیساکہ وحدۃ الوجود کےنظریہ سےمحسوس ہوتاہے

کیاوقت غیرحقیقی ہے ؟

خیراور شرکی حقیقت کیاہے؟

ان میں سےبعض مسائل کارسل نےخود ہی جواب دیاہے اوربعض ہنوز جواب کامنتظرہے، جسےرسل نےتشنہ چھوڑاہے، ہرمکتبۂ فکرسے قطع نظر کہ ہرایک نےاپنےنظریات کےدفاع میں بعض حسی اور عقلی دلیلیں وضع کررکھی ہے ، مسموم تصورات وجذبات ،،کےذیل میں مصائب کی تفصیل اوراختیاری وفطری کی تقسیم کی ہے،اور پھرآج کےدورکےلحاظ سےہمیں بتایاکہ آج سارے مصائب انسانوں کے اپنے ہاتھوں کےکرتوت کانتیجہ ہے خواہ وہ جنگ کےعنوان سے پھیلی بدامنی ہو یاامن کےنام پرچھائی سیاسی بدعنوانی ہو،جسکے نتیجے میں آج تک بنی نوع انسان بھوک اورغربت کےسائے تلےاپنےوقت کو کاٹ رہاہے،اوروہ اس پر مجبور ہے چند زمینی آقاؤوں کی وجہ سے ،1967 ،،کےعنوان سے ایک غیرمطبوعہ مضمون جواسکی حیات کے بعد اس کی پچیسویں برسی پر شائع کیاگیاتھا ، احتساب ذات ، کا عنوان اس پر بعد میں چسپاں کیاگیاہے ، اور،،رسل ،،کاسب سےآخری مضمون یہی تھا.

فکری تنگ نظری کےعنوان سےرسل نےہرطرح کے تعصبات کی یک قلم نفی کی ہے ،اس کی جگہ پر اس نے انسانیت پرزوردیا جسکےلئے بعد میں اس نےاپنی حیات فانی کووقف کردیاتھا ،اور اسکےباہمی امن کی مساعی اورانسانیت نواز تقریروں اور تحریروں کےاعتراف میں 1950 ء کواسے نوبل انعام سےنوازاگیاتھا ، نفسیات اورسیاست میں نفسیات کےحوالےسےکئی ایک پیشینگوئی اس نےکی ،جوپوری طرح توصادق نہ آئی ، لیکن خدشات اور تحفظات کےدرجہ میں وہ حق بجانب تھا، آج نفسیات کادوردورہ وشہرہ تونہیں ہے لیکن شکوک کے بادل چھٹ چکےہیں اورنفسیات بھی دیگرعلوم کے بالمقابل معاشرہ میں ایک عمدہ درجہ کی حامل ہے سائنس اورثقافت میں فلسفہ اورسائنس کی عمدہ تعبیروتشریح کی ہے مثالوں سے اسے واضح کیا ہیکہ نظریات کےحق میں جب تک مادی دلائل نہ فراہم ہوجائےوہ فلسفہ ہے، اور اسی نظریہ کوجب مادی دلائل سے لیس کردیاجائے تووہ سائنس بن جاتی ہے جیسے ،،نظریہ ارتقاء ،، کوفلسفیوں نےبہت پہلےپیش کیالیکن ڈارون نےاسے مادی دلائل سے مبرہن کردیا،اب،،ڈارون کی تھیوری سائینس بن چکی ہے.

پھرسائینس اورفلسفہ کےحدوداربعہ کومتعین کیا،اور دونوں جہت کےانتہاء پسندانہ نقطئہ نظر کورد کیا، نابغہ کہلانے کانسخہ یہ دراصل رسل نےاس وقت لکھاجب،، ڈی ایچ لارنس،،سے اختلاف ہوا لیکن فرد سےقطع نظرجدید مفکرین کےخشک فکری سوتوں کااس نےواقعی پتابتایاہے، اورانکےعلمی افلاس پرماتم بھی کیاہے، فحش اوربازاری زبان کواسکی کل جمع پونجی قرار دیاہے ،تہذیب کےارتقاء میں تاریخی پس منظرکےناحیہ سےنوبت بہ نوبت عہد بہ عہد تاریخ کی ادنی سی جھلک اپنےقارئین کےسامنےپیش کی ہے،

انسانی خواہشات کی سیاسی افادیت میں مارکس اور فرائڈ کی تھیوری سےالگ ایک جداگانہ شاہراہ نکالی ہے اورتمام انسانی اعمال کاقبلہ وکعبہ،، غلبہ وطاقت کی خواہش،، کوماناہے اوراپنےپیشروں مارکس کے،،بیگانگی ذات ،،ومعیشت ،،اورفرائڈ کے،،جذباتی عوامل،،کوانسانی اعمال کامحرک ماننےسے انکارکردیاہے ،ایٹمی ہتھیاراورعالمگیر ناپیدگی کاخوف ،یہ مضمون اس وقت لکھاگیاجب جنگ عظیم ثانی جاری تھی اورساتھ ساتھ مبصرین کی پیشینگوئی بھی ،لیکن رسل نے قبل ازوقت کسی بھی پیشینگوئی سے اپنےدامن کوبچاتے ہوے کائنات کش ہتھیاروں سے نفرت دلائی ،،اور پوری انسانیت کے امن کی پرزوروکالت کرتےہوےیہ کہا،،جیت کسی بھی فریق کی ہو شکست بہرصورت انسانیت کی ہوگی ،،اور ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی لوگوں کےسامنےرکھاکہ انسانیت کی بقاء کیلیے اور انسانیت دشمن عناصرپرنکیل کسنےکیلیے ایک ،،عالمی بلاک ، اور عالمی حکومت،، کی تشکیل وقت کااہم فریضہ ہے،

دورتشکیک اوردانشور کی ذمہ داری کےعنوان سےلکھےگئےمضمون میں لوگوں کو ،،چارعہد ،، میں تقسیم کیا،پہلاعہد جب ہرایک شخص جاننے کے واہمےمیں مبتلا تھا دوسراعہد ہرایک شخص معرفت وعلم کاانکاری تھا ،تیسرا عہد جب جب چالاک لوگوں نےبیوقوفوں سےکہاتھاہم جانتے ہیں تم نہیں جانتےہو،اوریوں کم علموں کی احساس کمتری نے ایک مخصوص طبقہ کی علم ودانش پر اجارہ داری قائم کرادی تھی اور چوتھاعہد یہ ہیکہ جسمیں جاننےوالےانکاری ہے جبکہ کم علم لوگ ہمچوں دیگرےنیست کاجھنڈااٹھائے پھررہے ہیں،

پہلادوراستحکام ،دوسراتنزلی اور تیسراترقی کادورتھا جبکہ چوتھا دورہلاکت وبربادی کاہے کتاب کاآخری مضمون اقتصادیت سےمتعلق ہے اور،، مزاحمت فروخت،، کےعنوان سےمعنون ہے اس میں سماج کی غلط روی اور آمدنی وخرچہ کی یکسانیت کےپہلوکو نہایت عمدہ پیرائےمیں بیان کیاہیکہ پہلےلوگ ضرورت کی وجہ سےخریدتےتھے، اب بغیرضرورت کےشوقیہ چیزوں کو خریدتےہیں، اورفروخت کرنے والااس انداز سے صارف کو خریدنےپرآمادہ کرتاہےکہ اس کی تمثیل بازاری عورتوں سےکچھ کم نہیں ہے، اسےبھی کچھ حیاء آتی ہے اپنی تشہیر میں ،لیکن ایک تاجر اخلاقیات کی ساری حدوں کوپار کرتےہوے ہرطریقہ سےاپنےسامان کی رسل کےفکرانگیز مضامین اورمیراذاتی تاثر فروختگی کاخواہاں ہوتاہے جب بازار کاآدھااثاثہ غیرضرورت مندوں پرتقسیم ہوگیاتونرخ کاگراں ہونافطری بات ہے.

یہ ہے مختصرذاتی تبصرہ جس کومیرے ذہن نےمحفوظ کیا،اب ہرایک کاذوق فیصلہ کریگاکہ اس کی دلکشی کتنی خواب وسراب ہے اوراس کی خشکی کتنی اکتاہٹ کاباعث ہے.