Royat e Hilalمضامین و مقالات 

رؤیت ھلال کے حوالے سے علماء کے درمیان اختلاف استدلال کی روشنی میں

یہ بہت پرانا مسئلہ ہے دلائل تقریبا سب کے ایک ہی ہیں لیکن استدلال الگ الگ ہے ۔ اخلاق اور ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے علماء سلف نے اس پر بہت بحث کی ۔ اپنے اپنے دلائل پیش کئے لیکن کمال یہ رہا کہ کسی ایک نے دوسرے کو نیچا نہیں دکھایا ۔ تو غلط میں صحیح کی ضد پر اڑے نہیں رہے اپنے موقف کو پیش کرنے کے بعد کہتے مجھے لگتا ہے میری رائے صحیح ہے۔ غلط بھی ہوسکتی ہے اور دوسرے کی رائے غلط ہے صحیح بھی ہوسکتی ہے ۔

اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے اور دوسروں کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرتے اسی لئے ہم سلف کی کتابوں میں تراجعات نام کی ایک چیز نمایاں طور پر دیکھ سکتے ہیں. اختلاف ابھی بھی باقی ہے اور شاید عیسی علیہ السلام یا امام مہدی کے آنے تک رہے گا لیکن اس اختلاف میں ہماری اپنی رائے یا ہماری ترجیح کیا ہے اس سے قطع نظر امت کامفاد اور ملت کی خیر خواہی کس میں ہے اس کو اپنانا آج کی ضرورت ہے ۔


اس حوالے سے اس صدی کے جید ‘معتبر ومستند’ اسلام کی روحانیت سے آشنا ‘ شریعت محمدی کے مزاج شناس ‘ شدت پسندی سے دور علماء ربانیین کے اقوال اور آراء کو آپ کے سامنے حوالہ جات کے ساتھ پیش کر رہا ہوں تاکہ ہم بھی حق کو سمجھ کر قبول کر سکیں اور سلف صالحین کی روش کو اپنا سکیں. اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنااجتنابه اللهم آمين

محترم قارئین! یہ مضمون شیخ بن باز شیخ البانی اور شیخ ابن العثیمین رحمھم اللہ اجمعین کے اقوال و اراء پر مشتمل ہے اور مندرجہ ذیل کتابوں کی مدد سے ترتیب دیا گیا ہے ۔
1) فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية
2 ) مجموع فتاوى ومقالات متنوعة … بن باز
3 ) فتاوى نور على الدرب ….. بن باز
4 ) الموسوعة الفقهية الميسرة ….. حسين العوايشة
———————————————————————–

اس عنوان کے تحت علماء نے کئی اقوال نقل کئے ہیں

1) مان لو ساری دنیا ایک مسلم ریاست بن جاتی ہے اور ان کا ایک عمومی خلیفہ یا بادشاہ تسلیم کر لیا جاتا ہے تو اس حکمران کے حکم کے تحت جہاں کہیں بھی رؤیت ثابت ہوگی ۔۔۔۔ تمام مسلمان پابند ہوں گے کہ وہ اپنے امیر کے حکم پر ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید منائیں ۔ اللہ کرے وہ دن آئے جب تک نہیں آتا تب تک اس حوالے سے بات کرنا تضییع وقت ہے ۔

2) بعض علماء کا کہنا ہے کہ ساری دنیا بھلے ایک ریاست نہ ہو اور حکمران بھی الگ الگ ہوں تب بھی مسلمانوں کو کوشش کرنی چاہیئے کہ اس حوالے سے وہ  اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ( اتفاق واتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے رؤیت ھلال کہیں بھی ثابت ہو جائے تو سارے ممالک اور تمام حکمران اپنی اپنی ریاستوں میں اس رؤیت کو نافڈ کردیں. مذکورہ تینوں علماء کی یہ دلی خواہش تھی کہ پورا عالم اسلام عیدین کے موقع پر اپنی اکائی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید منائیں لیکن تینوں اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔اللهم اغفر لهم وارحمهم ونور قبورهم ان کے ساتھ ساتھ ان کی خواہشیں بھی دفن ہوگئیں ۔ اور عملا ایسا نہیں ہو سکا ۔

3) تیسرا قول یہ ہے کہ ہر شہر اپنی اپنی رؤیت کی بنیاد پر رمضان کے روزے شروع کریں اور اسی کی بنیاد پر زوزے ختم کرکے عید منائیں ۔

4) چوتھا قول یہ کہ لوگ سعودی عرب کی رؤیت کو حجت بنائیں اور ان کے حساب سے روزہ شروع کریں اور انہیں کے ساتھ عید منائیں ۔

5) پانچواں عمل جو آجکل دیکھنے میں آرہا ہے وہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا ہے ۔ علوم اسلامیہ کا ایک ادنی سا طالب علم ہونے کے ناطے یہ عمل کسی صورت قابل قبول نہیں لگتا ہے ۔ وہ ہے سعودی میں رؤیت ھلال ثابت ہو جائے تو یہاں روزہ رکھنا شروع کیا جائے اور انہیں کے ساتھ روزہ ختم کریں لیکن عید مقامی لوگوں کے ساتھ منائیں عجیب بے تکی منطق ہے یہ۔


آئیں ہم ایک ایک قول پر روشنی ڈالتے ہیں

پہلا قول :- بہت وا ضح ہے ایک ریاست کے لوگ ایک امیر کی اطاعت وفرمانبرداری کے تحت یہ کام سر انجام دے رہے ہیں جو کہ عین شریعت کا منشا ہے اور قرآن و حدیث کے عمومی دلائل میں فٹ بیٹھتے ہیں 《۔۔صوموا لرؤيته و افطروا لرؤيته۔۔》۔…….《 لا تصوموا حتى تروه ولا تفطروا حتى تروه 》 اس کا اولین مخاطب مسلمانوں کا سربراہ ہوتا ہے جس کی امارت میں یہ سب کچھ نافذ ہوتا ہے ۔ لہذا وہ حکمران کے ماتحت چاہے ساتوں بر اعظم کی سلطنت کیوں نہ ہو وہ سب اس کے حکم کے ٹابع و فرماںبردار ہوں گے اور پوری سلطنت ایک ہی دن روزہ رکھے گی اور ایک ہی دن عید منائیں گے.

دوسرا قول :- یہ قول بھی پہلے سے ملتا جلتا ہے فرق اتنا ہے کہ ریاستیں اور حکمران متعدد ہیں اگر ان کے درمیان بھی اتحاد و اتفاق ہوجائے تو ممکن ہے سب ایک امت اور ایک ملت بن کر اپنے ان شعائر کو ادا کریں اس صورت میں بھی قرآن و حدیث کے مذکورہ عمومی دلائل میں فٹ بیٹھتے ہیں ۔ ہر علاقہ کا سربراہ اپنے ماتحت لوگوں کو قائل کر کے جہاں بھی رؤیت ثابت ہوئی ہے اس کو حجت بنا لیں گے ۔ خلیجی ممالک  قطر, کویت, عمان, امارات, لیبیا, فلسطین, یمن, عراق,  مغرب, بحرین, مصر, سوڈان اور بھی کئی ممالک اس حوالے سے بحیثیت ایک مجموعی قوم کے سعودی حکومت کو اپنا دینی پیشوا مان کر ایک لمبے عرصے سے ایسا ہی کرتے آرہے تھے. اس دائرہ کو مزید وسیع کیا جاسکتا ہے ۔

تیسرا قول :- یہ اس صورت میں ہوگا کہ الگ الگ ریاستوں میں بٹے ہوئے حکمراں ان کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہیں ہو. اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ کوئی یگانگت نہیں رکھنا چاہتے ہوں۔ یا پھر کسی سیاسی اختلافات کی وجہ سے تعلقات منقطع ہوں تو ایسی صورت میں مذکورہ بالا احادیث کے مخاطب اپنے اپنے علاقے کے سربراہ مستقل طور پر خود ہوں گے اور اپنے اپنے علاقے کی رؤیت کو مان کر وہ روزہ شروع کریں گے اور اپنی ہی رؤیت کو بنیاد بنا کر عید منائیں گے ۔

مذکورہ تینوں علماء کا ماننا ہے کہ امت پچھلے چودہ سو سالوں سے اسی پر عمل پیرا ہے ۔۔ کبھی بھی پوری کی پوری امت ایک رؤیت کو لیکر متفق نہیں ہوئی اور سعودی فتاوی کمیٹی اپنے جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 103 فتوی نمبر 3686 ۔۔۔کے تحت لکھتی ہے کہ آئندہ کے لئے بھی امت کو اسی حال پر چھوڑ دینا چاہیئے کہ وہ مقامی طور پر اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اپنے امراء کے تحت ایک اکائی بن کر اپنے ان شعائر کو ادا کریں ۔۔۔اور خواہ مخواہ اس موضوع کو کھینچ تان کر امت میں انتشار اور اختلاف کو ہوا نہیں دینا چاہیئے۔

خلاصئہ کلام ایں کہ مقامی طور پر متحد رہکر دائرہ کو بڑھائیں جہاں تک بڑھے یہ دائرہ جتنا بڑے گا اتنا ہی اچھا ہے لیکن مقامی جماعت سے مختلف ہو کر دور والوں سے ملنا عقلمندی نہیں ہے۔ کچھ سعودی طلبہ نے شیخ بن باز سے سوال کیا کہ ہم ہندوستان میں مقیم ہیں اور کچھ نے کہا ہم پاکستان میں مقیم ہیں اور یہاں رؤیت ھلال سعودی کی رؤیت کے دو دن بعد ہوتی ہے۔ ہم کیا کریں ایا مقامی لوگوں کے ساتھ عمل کریں یا سعودی کی رؤیت کو حجت بنا کر وہاں کے حساب سے روزہ شروع کریں ؟ شیخ کا جواب دونوں کے لئے ایک تھا وہ یہ کہ آپ لوگ ویسا ہی کرو جیسا وہاں کے مقامی مسلمان کریں جس دن وہ روزہ شروع کریں تم بھی ان کے ساتھ روزہ رکھو اور جس دن وہ روزہ ختم کریں تم بھی ختم کرو ۔۔۔تاکہ اس اختلاف سے امت میں انتشار اور فتنہ نہ ہو ۔۔۔میں نیچے کتاب کی فوٹو بھیج رہا ہوں نمبر( 1) ہندوستان میں مقیم طلبہ کے جواب کا حصہ ہے. نمبر 2 & 3 پاکستان میں مقیم طلبہ کو دئے ہوئے جواب کا حصہ ہے ۔


چوتھا قول :- شیخ بن باز سے ایک خاتون نے اسپین Spain ( اندلس ) سے سوال کیا کہ ہم لوگ یہاں ایک غیر اسلامی ملک میں مقیم ہیں ۔۔۔ جہاں مسلمان بہت زیادہ اقلیت میں ہیں اور جو ہیں وہ بھی منظم نہیں ہیں ادھر ادھر بٹے ہیں ۔ یہاں رمضان کی رؤیت کا کوئی اتہ پتہ نہیں چلتا۔ حکومت کو بھی ہمارے مذہبی امور میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ کسی حد تک لا پرواہ ہے اسلئے ہم نے سعودی عرب کی رؤیت کو حجت بنا کر روزہ شروع کیا۔ ہمارا اس طرح کرنا کس حد تک صحیح ہے ۔۔۔۔۔۔ جواب میں شیخ نے ان کے اس عمل کو سراہا کہا تم نے جو کچھ کیا ۔۔۔ اس میں کوئی حرج نہیں جب وہاں کوئی اسلامی جماعت  دینی تنظیم مذہبی ادارہ نہیں ہے جو اس معاملے میں فیصلہ کرے تو اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں

مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک مجبوری کا حل ہے۔ اب جہاں کہیں بھی ایسے حالات ہوں تو ان کے لئے علماء نے جس میں شیخ بن باز بھی شامل ہیں دو حل پیش کرتے ہیں.

1 ) سعودی عرب کی رؤیت کو مانے
2 ) اس طرح کے علاقوں سے قریب جس ملک میں بھی مسلم جماعت یا اسلامی تنظیم وغیرہ قائم ہیں اور وہاں کے مسلمان منظم اندازے میں اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں تو اس قریبی ملک یا شہر کۓ رؤیت کو بھی حجت بنا سکتےہیں ۔

رہا پانچواں اور آخری قول تو اس پر عمل کرنا کئی اعتبار سے غلط ہے
امیر کی نا فرمانی ۔۔۔۔ امت کے اتحاد و اتفاق میں فتنہ پروری اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح اور صریح فرمان کی مخالفت یعنی ایک علاقے کے لوگوں کے ساتھ روزہ اور دوسرے علاقے کے لوگوں کے ساتھ عید وغیرہ۔ یہ لوگ اگر اپنے عمل سے دلیل اور برہان کی بنیاد پر مطمئن ہیں تو یہ کام بھی کر کے بتائیں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں “الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون والأضحى يوم تضحون ” (سنن الترمذي) روزے کا دن وہ ہے جس دن تم روزہ رکھتے ہو اور روزہ چھوڑنے یعنی ختم کرنے کا وہ دن ہے جس دن تم روزہ چھوڑتے ہو اور عید الاضحی کا وہ دن ہے جس میں تم قربانی کرتے ہو۔

اس میں تیں کام ہیں دو کا تعلق عید الفطر سے اور ایک کا تعلق عید الاضحی سے۔

جو لوگ رمضان کے روزے سعودی کے حساب سے شروع کر کے انہیں کے حساب سے روزہ ختم کرتے ہیں۔ پھر ایک دن یا دو دن انتظار کر کے مقامی لوگوں کے ساتھ عید مناتے ہیں وہ ۔ عید الاضحی میں بھی سعودی کے حساب سے قربانی کریں۔ پھر ایک دن دو دن انتظار کر کے مقامی لوگوں کے ساتھ عید منائیں۔ تب جا کر مذکورہ حدیث پر عمل ہوگا۔

کچھ اعتراضات اور ان کے جواب۔
بعض بھائی اعتراض کرتے ہیں کہ مان لو سعودی میں کل چاند نظر آیا آج ان کا پہلا روزہ تھا اور انڈیا میں آج چاند نظر آیا کل ہمارا پہلا روزہ ہوگا ۔۔۔۔۔ اب لیلۃ القدر کا حساب سمجھ کے باہر ہے ۔۔۔۔ جب کہ دونوں کی طاق راتیں الگ الگ ہیں تو کس کی لیلۃ القدر صحیح ہوگی ؟
اس سوال کا جواب دینے کے بجائے میں کچھ سوالات اعتراض کرنے والوں سے پوچھتا ہوں۔ میرے سوالات کے جو جوابات وہ دیں گے۔ ان کے سوال کاجواب بھی وہی ہوگا۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب رات کا آخری تہائی حصہ شروع ہوتا ہے تو اللہ تعالی آسمان دنیا پر آکر آواز دیتا ہے ۔۔۔۔۔ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے تو یہ آواز دینے کا وقت کہاں کے حساب سے ہوتا ہے۔ جس وقت انڈیا میں وہ وقت شروع ہوتا ہے تو سعودی میں آدھی رات ہو رہی ہوتی ہے اور جب سعودی میں وہ وقت شروع ہوتا ہے تو انڈیا میں فجر ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ اب میں کس وقت اس آواز پر لبیک کہوں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی روزہ دار کی دعا جو وہ افطار کے وقت کرنا ہے ۔۔۔۔ کونسے افطار کے وقت جب ہم انڈیا میں افطار کر رہے ہوتے ہیں تو سعودی مین عصر کا وقت ہوتا ہے اور جب وہ افطار کر رہے ہوتے ہیں تو ہم عشاء پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔ اب میں دعا کب کروں ؟

ایسی ایک دو نہیں ‘دس بیس نہیں پچاسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں جو ہر کے لئے الگ الگ ہوتی ہیں ۔


بعض بھائی اعتراض کرتے ہیں کہ…** صوموا لرؤيته و افطروا لرؤيته …**۔ یہ حکم عام مسلمانوں کو ہے تو یہ ایک ہی وقت ہو سکتا ہے الگ الگ کیسےہو سکتا ہے ۔ ٹھیک ہے ۔
آلله تعالى فرماتا ہے …**. وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر ثم اتموا الصيام الى الليل . ** …سورة بقرة 187
تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائےپھر رات تک روزے کو پورا کرو ۔ اب یہ حکم بھی عام ہے تمام مسلمانوں کے لئے ہیں تو پھر اس کو دنیا کے کس ملک کے ساتھ جوڑا جائے گا سعودی کا وقت الگ ہے انڈیا کا الگ امریکہ اور یورپ کا الگ ۔۔
اسلئے ہر انسان مکلف ہے اپنے اپنے علاقے کے وقت کے اعتبار سےعبادات کو منھج نبوی پر انجام دینے کا اور رب کے کرنے کے کام رب کے حوالے کر دے وہ ہم سے صرف اطاعت و فرمانبرداری کا امتحان لیتا ہے کہ اس کے اور اس کے رسول کی باتوں کو بلا چوں وچرا تسلیم کرتے ہیں یا پھر من مانی۔

لیلۃ القدر بھی اس کا علم اللہ تعالی کو ہے کہ وہ کونسی رات ہے میرے اور آپ کا کام بتائے ہوئے وقت پر عمل کرنا قبول کرنے کا کام ہمارے رب کا ہے اور یقینا وہ شخص ہرگز نقصان یا گھاٹے میں نہیں ہوگا جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا عشرہ عبادت میں لگا دیتے تھے کمر کس لیتے اور پوری پوری رات عبادت کرتے ۔ہمیں بھی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واقتداء کرنا چاہیئے۔

قرآن کی اس آیت پر غور کریں * فمن شهد منكم الشهر فليصمه * تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہیئے ۔ عربی گرامر میں رتی برابر معلومات ہونے کی بنیاد پر ٹھوڑی سی جسارت کر رہاہوں غور کرنے کی تو اشارہ یہ مل رہا ۔ منکم  سے ساری امت بیک وقت رمضان میں نہ داخل ہوتی ہے نہ بیک وقت رمضان سے باہر نکلتی ہے ۔ شروعات میں کچھ لوگوں کے پاس رمضان پہنچتا ہے۔ جہاں پہنچا وہاں کے لوگ اس کے مکلف ہون گے پھر دھیرے دھیرے رمضان سب تک پہنچے گا اسی طرح نکلنے ّے وقت کا بھی حال ہوگا ۔

ما اريد الا الاصلاح والتوفيق ….. ان اصبت فمن الله تعالى وحده وان اخطأت فمني ومن الشيطان …. استغفر الله ربي وأتوب إليه.

Avatar

Written by 

Related posts