Darul Uloom Deobandمضامین و مقالات 

دینی مدارس کو درپیش چیلنجس اور ہماری ذمہ داریاں

آج پورے ملک میں دینی مدارس کا ایک جال بچھا ہوا ہے جن کا مقصد دین و شریعت کا تحفظ اور مسلمانوں میں دینی حرارت پیدا کرنا اور انہیں اسلام سے جوڑے رکھنا ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ مدارس اپنے مقاصد میں کامیاب ہیں ، علم وشریعت کے جاننے والے اور تحفظ شریعت کے لئے اپنی جان تک قربان کر نے والے افراد کو ان مدارس نے جنم دیا ، ان ہی اہل مدارس کی کو ششوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہر طرف بے دینی کا ماحول ہونے کے باوجود پورے ملک میں اسلام کا چراغ روشن ہے ، جو بھی اسلامی آثار ، دینی رونق اور عملی اقدام پایا جارہا ہے ، یہ ان ہی مدارس اور تحریکاتِ اسلامی کا فیض ہے۔

یہاں کے فضلاء اور فراغت حاصل کرنے والے علماء کرام نے قصبات ، دور افتادہ گائوں او ردیہاتوں میں جاکر کسی فنڈ اور سرمایہ کے بغیر مکاتب قائم کئے، چھوٹے چھوٹے مدارس و مساجد اور تعلیم گاہیں قائم کیں ، مسلمان مرد وعورتوں کو اسلام سے روشنا ش کرایا.


یہ کون نہیں جانتا کہ باطل مشنریاں منظم طریقے پر دیہاتوں اور ناخواندہ علاقوں میں کام کررہی ہیں ، ارتداد کی ساری سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں ، تاہم ان کی تمام تر ارتدادی کوششیں ناکام ہیں ، آج ہزاروں دیہاتوں اور علاقوں میں جہاں رہائش اور ڈھنگ کے کھانے پینے کا بھی نظم نہیں ، وہاں پہنچ کر ان ہی مدارس کے افراد دینی شعور کو فروغ دے رہے ہیں ، مسلمان بچوں کو قرآن پڑھاتے اور دین کی ضروری باتوں سے واقف کراتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ مسلمان مرتد ہونے سے محفوظ ہیں اور اب نئی نسلوں میں دینی حمیت و غیرت جاگ رہی ہے ۔

ان ہی دینی درسگاہوں کی وجہ سے آج مسلمانوں کی ساری ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں۔رمضان المبارک میں تراویح کا مسئلہ ہو یا عام دنوں میں پنج وقتہ نمازوں کی امامت کا ، اذان و اقامت کا مسئلہ ہو یا جنازے کی نماز کا ، ازدواجی اور سماجی مسائل ہوں یا تجارتی اور اقتصادیاتی ، ہر شعبے میں ان ہی دینی درسگاہوں سے وابستہ علماء کرام نے اپنی شبانہ روز محنتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مکمل رہنمائی کی ، مختلف موضوع پر کتابیں تصنیف کی، وعظ وتقریر کے ذریعہ ان کے ایمان کو للکارا اور ان کی غیرت کو آوازدی۔

سڑکوں پر تیز رفتار چلتی ہوئی گاڑیوں کے لئے ان کی پٹرول ٹنکی پاور ہاوس ہے ، اگر یہ ٹنکی ٹوٹ جائے اور پٹرول ڈالنے کی کوئی شکل نہ ہو تو گاڑی کی مشین اپنی ساری توانائی اور قیمتی ہونے کے باوجود کار کرد نہیں ہوگی ، ٹھیک اسی طرح دینی مدارس کا وجود تمام مسلمانوں کے لئے پاور ہاوس ہے ، یہیں سے ان کی دینی ، شرعی ، سماجی ، اخلاقی ، معاشی اور اقتصادی تمام ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ، آج مسلمانوں میں جو بھی اطمینانی کیفیت پائی جارہی ہے اور ان کی زندگیوں میں مسرت کی لہریں پائی جاتی ہیں ، یہ سب ان ہی دینی درسگاہوں کا احسان ہے۔

اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو ملت اسلامیہ کا تشخص مٹ چکا ہوتا ، باطل طاقتیں اسے کبھی چین کا سانس نہ لینے دیتیں ، مسلمان دین اسلام سے دور ہو جاتے ، انہیں خدا کا علم ہوتا اور نہ رسول کی پہچان ہوتی ،نماز جو اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے ، اس کی امامت سے بھی لوگ محروم ہوجاتے ، جنازہ کی نماز بھی پڑھانے والا کوئی نصیب نہ ہوتا۔


جن لوگوں کو مدارس سے تھوڑی بھی مناسبت ہے اور وہ ان کے شب وروز سے واقف ہیں ، وہ جانتے ہوں گے کہ ان مدارس کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ نصاب کی چند کتابیں پڑھا کر چند علماء اورفضلاء تیار کر دئیے جائیں یا امامت اور خطابت کے لائق چند افراد پیدا کر دئیے جائیں ؛ بلکہ یہ باطل کے خلاف ایک مکمل تحریک ہے۔

یہاں کام کرنے والے مخلص اور خدا تر س ہوتے ہیں ، بوریہ نشینی ان کاشعار ہے ، نہایت سادگی ، تواضع و انکساری ، امانت و صداقت ان کی شناخت ہے ، شرافت اور دل کی پاکیز گی ان کی خصلت ہے ، سیدھے سادے لباس میں ، صبر وقناعت کی زندگی گذارتے ہوے اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے اور ان میں دینی حرارت پیدا کرنے کی یہ کو شش کرتے ہیں ، قرآن وحدیث کی تعلیمات پر عمل کرنے کے لئے مسلمانوں کو آمادہ کرتے ہیں ، مسائل زندگی میں شرعی اصول کے مطابق ان کی رہنمائی کرتے ہیں اور ہر لمحہ ان کی فکر ہوتی ہے کہ پورا سماج اور انسانی معاشرہ صالح ہو جائے، اس سے معلوم ہوا کہ دینی مدارس کا وجود مسلمانوں کے لئے از حد ضروری ہے ،اگر مسلمان ان دینی درسگاہوں سے محروم ہوگئے اور ان کا وجود خطرے میں پڑ گیا تو اس کی وجہ سے ملک میں نہ صرف مسلمانوں کے دین و مذہب بلکہ خود ان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا اور یہاں بھی اسی طرح مسلمانوں کا نام و نشان مٹ جائے گا جس طرح اسپین میں تقریبا آٹھ سو سال کی حکومت کے بعد بھی وہاں مسلمانوں کا چند کھنڈرات کے علاوہ کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے۔

مشہور شاعر علامہ اقبال یورپ کا دورہ کرکے جب واپس آئے تو انہوں نے اپنے مشاہدات کی روشنی میں اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوے کہا تھا: ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو ، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مکتبوں میں پڑھنے دو ، اگر یہ ملا درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا ؟ جو کچھ ہوگا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستان کے مسلمان ان مکتبوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح جس طرح ہسپانیہ میں مسلمانوں کی آٹھ سوبرس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈر اور الحمراء اور باب الاخوتین کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش ہی نہیں ملتا ، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔(اوراق گم شدہ صفحہ ٣٧٥)

دینی مدارس کی اسی اہمیت کے پیش نظر دشمنان اسلام کی ہمیشہ ان کے وجود پر نظر رہی ہے اور مختلف بہانوں سے ان کو بدنام کرنے اور ان کی شبیہ بگاڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں،کبھی انہیں دہشت گرد کا اڈا اور مرکز کہ کر ان کے تئیں نفرت پھیلانے کا کام کیا گیا اور کبھی ان کے نصاب و نظام کو زمانہ سے ہم آہنگ نہ ہونے کا پروپیگنڈہ کرکے ان کی ساکھ کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی ان سے وابستہ افراد کو ملک دشمن بتا کر انہیں مشکوک ٹھہرایا گیا.


بیرون ملک سے آنے والی امدادی رقم پر پہلے سے ہی روک لگا دی گئی ہے اور اب ملک کے اندرون سے بھی کئے جانے والے چندوں پر نظر جمائے ہوے ہیں اور مختلف قوانین کے ذریعے ان کا دائرہ بھی تنگ سے تنگ کرتے جارہے ہیں ، لیکن ان سب حالات کے باوجود دینی ادارے کے ذمہ داران انہیں چلارہے ہیں اور اس کے لئے ہر تکلیف اور مشقت کو برداشت کررہے ہیں جس کے لئے وہ پوری ملت کی جانب سے شکریے کے مستحق ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ دینی مدارس کا چلنا صد فیصد عوامی چندوں اور ان ہی کے تعاون پر موقوف ہے ،مدارس کی کوئی نجی جاگیر نہیں ہوتی اور نہ ان کے لئے مستقل ذرائع آمدنی ہوتے ہیں ، ان کی زیادہ تر فنڈنگ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی زکوٰة ،صدقات و عطیات اور امدادی رقوم سے ہوتی ہے اور پھر عیدالاضحی میں کھالوں کے ذریعے بھی کچھ حد تک ان کاتعاون ہوتا تھا جس کا سلسلہ ادھر کئی سالوں سے بند ہے ۔

اب صرف اور صرف اس ماہ مقدس میں مسلمانوں کی توجہ اور ان کی طرف سے دی گئی امداد پر ان مدارس کی نظر ہوتی ہے اور ہر دینی ادارہ کوشش کرتا ہے کہ اس مہینے میں ہی اس کا مالیہ مستحکم ہوجائے اور اس کے سال بھر کے اخراجات پورے ہوجائیں لیکن اس سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام مدارس کے ذمہ داران سہمے ہوے ہیں ،ظاہری اسباب کے طور پر رمضان میں چندہ جمع نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ سال مدارس کے لئے بڑا امتحان اور بڑا چیلنج ہے ۔

لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد ساری تجارتی منڈیاں بحال ہوجائیں گی اور پھر سے بازاروں کی رونق لوٹ آئے گی ،ہر ایک کا نقصان بھی پورا ہوجائے گا تاہم دینی مدارس کے نقصان کی تلافی کی کوئی شکل نظر نہیں آرہی ہے۔دارالعلوم دیوبند سمیت بڑے سے بڑے مدارس بھی اس وقت فکر میں ڈوبے ہوے ہیں اور آئندہ تعلیمی سال کو بحال کرنے کی تدبیر کررہے ہیں۔


اس نازک وقت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ مدارس کو تنہا نہ چھوڑیں بلکہ اپنے اپنے قرب و جوار کے مدارس کے اخراجات کو اپنے روز مرہ زندگی کے خرچ میں شامل کرتے ہوے ان کا بھر پور تعاون کریں۔

جن مدارس کو آپ شروع سے چندہ دیتے رہے ہیں ان تک بینک اکاؤنٹ وغیرہ کے ذریعے رقم کی رسائی کو یقینی بنائیں یا ان کی رقم کو محفوظ کرلیں تاکہ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد ان کی جانب سے آنے والے سفراء کو حسب سابق امداد پہنچا سکیں،اپنے ساتھ اپنے دوست و احباب کو بھی توجہ دلائیں ،یہ ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ ہے اور دینی غیرت حمیت کا ثبوت بھی۔

مفتی تنظیم عالم قاسمی

Written by 

استاذ حدیث دارلعلوم سبیل السلام حیدرآباد و صدر نشین تحفظ سریعت فاؤنڈیشن تلنگانہ و آندھرا پردیش

Related posts