دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کااختصاریۓ 

دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا

ہمارے محلے میں ایک بوڑھے چچا ہوا کرتے تھے جو ہمیں ہر رات نئے نئےقصے سنایا کرتے تھےایک رات قصہ سنارہے تھے کہ1977ء میں ایسا سیلاب آیا تھا کہ پورا کا پورا شہر ڈوب گیا, خود میری یہ حالت تھی کہ ایک درخت کی ڈالی پکڑ کر 11 دن تک لٹکا رہا اور سیلاب کے ختم ہونے پر میں اپنے گھر لوٹا.

ہم بڑی حیرت سے ان کا قصہ سن رہے تھے. قصہ ختم ہونے پر ہم بچوں نے ان کی واہ واہی شروع کردی. ہم بچوں سے اپنی تعریفیں سن کر وہ بوڑھے چچا اس قدر چڑھ گئے کہ اپنے بہادری کے ایک کے بعد ایک قصے گھڑنے لگے. کبھی اژدہے کے دونوں جبڑے پکڑ کی چیڑ دیتے, تو کبھی ببر شیر کو ایک ہاتھ سے چت کردیتے, کبھی پہاروں سے چھلانگ لگا کر اڑتے ہوئے پرندوں کا شکار کرلیتے, تو کبھی سمندر میں تیر کر وہیل مچھلی کے کان پکر کر لے آتے.


ہم تو ٹھہرے بچے! ایک شام کے قصے سے فارغ ہوتے ہی دوسرے شام کا بے صبری سے انتظار کرتے. ہر دن بلند و بالا کارنامے سن سن کر ان کو پوری دنیا کا سب سے طاقت ور شخص کے طور پر تسلیم کرچکے تھے, ان کے بہادری کے کارنامے کی ڈھاک ہمارے دل و دماغ پر ایسی چھائی تھی کہ جب بھی محلے کے کسی بھی ہمجولیوں سے جھگڑا ہوتا بے بانگ دہل اس بوڑھے چچا کا ڈھونس جمادیتے سامنے والا لڑکا بھی چچا کا نام سن ہم سے نہ الجھنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا تھا.

ایک دن ہوا یوں کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کچھ دن کےلئے پڑوسی محلے میں کسی رشتہ دار کے پاس گیا, وہاں دو ہی دن میں اپنے کئی ہم عمروں سے دوستی ہوگئی ہم سب ساتھ میں کھیلا کرتے تھے ایک دن کسی بات کو لیکر ہمارے درمیاں جگھڑا ہوگیا. میں اپنے اس بوڑھے چچا کے طاقت کے زعم میں بنا سوچے سمجھے کئی لڑکوں سے بِھڑ گیا, اس کے بعد اس بوڑھے چچا کے بہادری کا ڈھونس جمانے پر جو میری درگت ہوئی وہ تو ہوئی لیکن گھر پہونچنے پر گھر والوں نے جو درگت بنائی وہ قابل دید تھی.

خیر وقت کے ساتھ جیسے جیسے سمجھداری بڑھی بوڑھے چچا کی بہادری بھی ہم پر آشکارہ ہونے لگی. اب جب کبھی کسی کو اپنی تعریفوں کے پل باندھتے سنتا یا دیکھتا ہوں تو کنی کترانے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں.

یہ پورا نقشہ میرے آنکھوں کے اسکرین پر اس وقت ناچ گئی جب بالی ووڈ کے معروف گلوکار سونو نگم کے موجودہ حالتِ زار کا علم ہوا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے وہ دبئی میں پھنسےہوئے ہیں.


عرب حکمرانوں کا چند دنوں سے ہندی مسلمانوں کے سپورٹ میں آنا اور اسلاموفوبیا پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کی دہائی دینا معروف گلوکار کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے. یہی وجہ ہے کہ 2017 میں اپنے اکاونٹ سے کئے گئے controversy ٹوئیٹ کو ہٹانے میں ہی عافیت سمجھا.

جس چچا کی طاقت کے زعم میں 2017 اسلامو فوبیا پھیلانے کی انہوں نے جو نادانی کی تھی آج وہ چچا بھی ان کا پرسان حال نہیں ہے, گویا کہ آج *وہ اس دھوبی کے کتے کے مانند ہوچکے ہیں جو نہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا*

Related posts