مضامین و مقالات 

خود کشی اور ذہنی دباؤ سے حفاظت میں اسلامی تعلیمات کا امتیاز

اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی سے ملک کے ہر شہری کو فطری طور پر رنج ہوا کہ ہندوستان ایک نامور اداکار سے محروم ہوگیا اور ابھرتا ہوا ایک ستارہ ڈوب گیا, لیکن اس طرح کی موت اور اپنے ہاتھوں زندگی ختم کرنے کے تمام واقعات سے ذہن میں یہ بات ضرور گردش کرتی ہے کہ آخر وہ کون سی بنیادی وجہ ہے جس کے سبب لوگ اس طرح کا اقدام کرتے ہیں بالخصوص ایسے افراد جو متمول ہیں ،آرام و راحت کی تمام چیزیں ان کے پاس موجود ہیں ،کھانے پینے اور نوکر چاکرسے لے کر سیرو تفریح اور زندگی کو پر لطف بنانے والی ہر چیز انہیں مہیا ہے ، دنیوی عیش و عشرت کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے وہ انہیں بآسانی دستیاب ہے، انہیں معاش کی فکرہے نہ بیماری میں علاج و معالجہ کی ،نہ پیسے کی کمی ہے اور نہ خدمت گاروں کی۔ بظاہراس قدر پرتعیش زندگی کے باوجود وہ کیا مجبوری ہے جس سے تنگ آکر یہ لوگ خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں،زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے جسے حاصل کرنے کے لئے دنیا اپنی دولت بہا دیتی ہے اور آخری سانس بھی پانے کے مقصد سے قیمتی سے قیمتی علاج کے لئے لوگ سرگرداں و پریشان رہتے ہیں۔

اداکار سشانت ابھرتا ہوا اداکار تھا اور روز بروز بڑھتی ہوی مقبولیت اس کی نظروں کے سامنے تھی،بڑا بنگلہ تھا دوست و احباب تھے ، قیمتی گاڑیاں تھیں،دولت اور پیسوں کا انبار تھا ،نوکرچاکر اور خدام تھے ،من پسند علاقہ تھا ،پھر اس طرح کا قدم اس نے کیوں اٹھایا،یہ مسئلہ صرف اسی کا نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی سشانت کی منیجر 28 سالہ دشاسالیان نے 9 جون کو ایک اونچی عمارت سے چھلانگ لگار خود کشی کر لی تھی۔بالی ووڈ ارکان، مختلف دنیوی عہدیدار، اونچے منصب پر فائز افراد اور اچھی تنخواہیں پانے والے لوگ جب اس طرح کا انتہائی قدم اٹھاتے ہیں تو ہم جیسے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال گردش کرتا ہے کہ کس چیز نے انہیں یہاں تک پہنچایا اور کیوں وہ اس دنیا سے اکتا گئے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض نجی ایسے مسائل ہوتے ہیں جن کے سبب ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا انسان شکار ہوجاتا ہے اوروافر پیسہ ، شہرت اور عزت کے باوجود ذہنی سکون ختم ہوجاتا ہے ،جب ذہنی دباؤ بڑھتا ہے اور ٹینشن حد سے زیادہ ہو جاتا ہے تو ذہنی حالت کمزور ہوجاتی ہے اور آدمی اسی میں عافیت محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرلی لیکن ان سب کے باوجود اسلام خود کشی کی اجازت نہیں دیتا اور نہ کسی ایسے کام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس سے انسانی جان خطرے میں ہو،یہاں تک کہ کسی پریشانی سے گھبراکر فطری موت مرنے کی دعاء کرنے کو بھی اسلام نے نا پسند کیا ہے،ہاں البتہ اسلام نے انسانی زندگی کے مختلف موڑ پر ایسی رہنمائی کی ہے اور ایسی ذہن سازی کی ہے کہ پریشانیوں اور سخت مشکلات کے درمیان بھی رہ کر ایک شخص سکون محسوس کرتا ہے ،ذہنی دباؤ اور مختلف ذہنی مسائل میں بھی رہ کر ایک مسلمان اپنی زندگی سے خوش رہتا ہے اور وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ وہ اپنی زندگی کو ختم کردے اور خود کشی کے ذریعے اپنے آپ کو ہلاک کر بیٹھے۔

سنگین مسائل سے گذرتے ہوے بھی اسے زندگی میں لطف محسوس ہوتا ہے اور دل و دماغ میں طمانیت کی کیفیت رہتی ہے،یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو اسلامی تعلیمات اور قرآنی ہدایات سے واقف ہوں اور وہ مکمل یقین کے ساتھ اس پر عمل بھی کریں، یہ صرف اسلام کا امتیاز ہے کہ دیگر شعبہائے حیات کی طرح ذہنی استحکام کے لئے ایسی بے مثال رہنمائی اس میں موجود ہے کہ اس پر عمل کرنے والا ہر شخص فقیری اور غربت کے باوجود کبھی تناؤ کا شکار نہیں ہوتا ،شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے اور اگر کبھی ایسا واقعہ پیش آتا بھی ہے تو اس لئے کہ اس نے اسلام سے رہنمائی نہیں لی یا اس نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی،آج بھی اگر لوگ وہ دستور حیات اپنا لیں جس کو اسلام نے پیش کیا ہے اور اسے اپنے نظام زندگی کا جز بنا لیں تو پوری دنیا میں خودکشی کے واقعات نمایاں حد کم ہو جائیں گے ۔

اسلام نے بنیادی طور پر اپنے پیروکاروں کو تقدیر پر ایمان کی تعلیم دی ہے۔جب ایک آدمی کو یقین ہوجاتا ہے کہ میری قسمت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ جیسا چاہتا ہے کرتا ہے،اس نے میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی تمام چیزیں لکھ دی ہیں جس کے مطابق دنیا میں خوش حالی اور پریشانی کا ظہور ہوتا ہے ،رحمت اور زحمت اسی کی جانب سے ہے ،آسمان کے فیصلے پر جبکوئی شخص راضی ہونا سیکھ لیتا ہے تو تمام پریشانیاں یک لخت ختم ہوجاتی ہیںاور ہر موڑ پر وہ تصور کرلیتا ہے کہ یہی میرے مقدر میں تھا ،اسی میں میرے لئے خیر ہے ۔ اس سے ذہنی استحکام حاصل ہوتا ہے اور شدید دباؤ اور ٹینشن کے ماحول میں ایسی قلبی طمانیت محسوس ہوتی ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔تقدیر پر ایمان جب مضبوط ہوتا ہے تو صبر و توکل کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے ایک شخص ہر حال میں خوش رہتا ہے اور انتہائی تنگی اور پریشانی کے حالات میں بھی وہ زندگی سے مایوس نہیں ہوتا،اسی لئے قرآن و احادیث میں صبرو توکل کی جگہ جگہ تعلیم دی گئی ہے اور مختلف انداز میں ان کی حوصلہ افزائی نظر آتیہے۔ایک جگہ ارشاد باری ہے :جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لئے وہ کافی ہے،اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے ،اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔( الطلاق۔٣)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو ہر حال میں اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ،گھر میں خوش حالی ہو تو بھی پریشانی ہو تو بھی،صحت مند ہو تو بھی بیمار اور ناتواں ہو تو بھی،مالی وسعت اور فراخی ہو تو بھی غربت اور تنگدستی ہو تو بھی ،حالات مزاج کے موافق ہوں یا مخالف ۔جب ایک آدمی اپنے رب پر یقین کر لیتا ہے اور اس کی لکھی ہوی تقدیر پر کسی شکوہ کا اظہار نہیں کرتا تو اس کے ساتھ غیبی مدد شامل حال ہوتی ہے اور دست قدرت اس کی رہنمائی کرتی ہے پھر الٹے حالات بھی صحیح ہو جاتے ہیں اور ناموافق ماحول بھی خوش گوار ہوجاتا ہے اور اگر توکل اور صبر سے انسان کام نہیں لیتا تو پھر اسباب و وسائل کام نہیں آتے ،طاقت اور عزت نفع نہیں دیتی بلکہ ذہنی تناؤ حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے اور پھر وہ کام کرجاتا ہے جس سے دنیا و آخرت دونوں تباہ ہو جاتی ہے۔

عام طور پر تین موقعوں پر خود کشی کے واقعات پیش آتے ہیں ۔جب ایک شخص بیمار ہو اور وہ طول پکڑ جائے، فی الحال شفاء ملنے کی کوئی توقع نہ ہو یا بیماری سخت تکلیف دہ ہو۔دوسرے جب ایک شخص معاشی تنگی کا شکار ہوجائے اور اس کا حل نکلتا ہوا نظر نہ آئے اور تیسرے گھریلو اختلاف جب وہ حد سے بڑھ جائے اور صلح یا اتفاق و اتحاد کی راہیں مسدود دکھائی دے۔مذہب اسلام نے ان تینوں موقعوں پر انسان کی مکمل رہنمائی کی ہے کہ اگر اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو خود کشی تک نوبت ہی نہیں آئے گی بلکہ ناخوش گوار اور پریشان کن حالات بھی اسے پر لطف محسوس ہونے لگیں گے۔

چنانچہ آدمی جب بیمار ہوتا ہے اور دوا و علاج کرتے کرتے تھک جاتا ہے ، علاج کے پیسے ختم ہوجاتے ہیں یا بیماری کی طوالت کی وجہ سے الجھن پیدا ہوجاتی ہے ،تیمارداروں کے لعن طعن سے بیمار شخص کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے یا پھر بیماری ایسی ہوتی ہے جس میں تکلیف ناقابل بیان ہوتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔بیماری کی جو بھی شکل ہو، شریعت نے مریض کو صبر کی تلقین کی ہے اور یہ تصور دیا ہے کہ اس سے تمہارا گناہ کم ہوگا اور جنت میں درجات بلند ہوں گے، اللہ تعالیٰ بعض بندوں کے لیے آخرت میں بلند مقام کا فیصلہ کرتا ہے مگر ان کے پاس وہ اعمال نہیں جن کے سبب وہ اس کے مستحق ہوسکیں اس لیے بسا اوقات بعض بیماریوں میں مبتلا کر کے ان کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ آخرت کی اس بلندی اور مقام کے اہل ہوجائیں،لہذا بیماری زحمت نہیں بلکہ رحمت اور موجب خیر ہے۔جب ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ بیماری میرے لئے رحمت اور اخروی عذاب سے نجات کا ذریعہ ہے تو تمام کلفتوں کے باوجود خود کشی کی جرأت نہیں کرے گا بلکہ اس سوچ سے اسے حوصلہ ملے گا ، ہمت ملے گی اور اندر سے وہ نئی طاقت اور توانائی محسوس کرے گا۔

معاشی تنگی کا جب انسان شکار ہوتا ہے تو اس وقت بھی دماغ صحیح کام نہیں کرتا ۔ ایسے وقت فطری طور ذہنی تناؤ کا وہ شکار ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں بسا اوقات وہ غلط فیصلہ کر بیٹھتا ہے ،اس وقت بھی شریعت آگے آتی ہے اور اسے صبر کی تلقین کرتی ہے۔متعدد آیات و احادیث میں دنیا کی بے ثباتی اور اس کے فنا ہونے کو بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا سے محروم ہوگیا تو یہ غم کی بات نہیں ہے اس لئے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ،ایک مسلمان کو آخرت کی فکر کرنی چاہئے اگر ایک نماز فوت ہوگئی تو سمجھو تمہاری کائنات لٹ گئی ۔دنیا آتی جاتی رہتی ہے اور پھر دنیا کے بارے میں ہمیشہ اپنے سے کم تر افراد کو دیکھنا چاہئے کہ ہمیں تو دو وقت کا کھانا بھی نصیب ہے ،بعض وہ لوگ ہیں جن کو ایک وقت بھی پیٹ بھر کر کھانامیسر نہیں،ہم اپنے ذاتی مکان میں ہیںجب کہ کتنے ایسے لوگ ہیںجن کے پاس کرائے کا مکان بھی نہیں ،وہ خیموں ،جنگلوں ،اسٹیشنوں اور سڑکوں پر زندگی گذار رہے ہیں ۔صحابۂ کرام اور بہت سے اللہ والوں کی زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو اس سے سبق ملے گا اور دنیا کے قید خانہ ہونے کے تصور سے معاشی تنگی کی تکلیف دور ہو جائے گی اور اس کے پاس جو بھی ہوگا اسی میں مگن اور خوش رہنے کا حوصلہ پائے گا۔

خاندانی اور گھریلو اختلاف بھی بسا اوقات ایسا خطرناک موڑ اختیار کرلیتا ہے کہ انسان جینا نہیں چاہتا اور دنیا سے چلے جانے میں عافیت محسوس کرتا ہے ،اسلام نے ایسے وقت صبر و تحمل اور قوت برداشت پیدا کرنے کی تعلیم دی ہے۔جب ایک جگہ گھر کے مختلف لوگ ہوں گے تو آپس میں ناموافق باتیں ہو سکتی ہیں ،اجتماعی زندگی میں برداشت کرنے کی قوت اگر نہ ہو تو زندگی میں چین اور حقیقی سکون نصیب نہیں ہوگا ،پیسوں اور اسباب تعیش کے باوجود زندگی کا یک ایک لمحہ کانٹا بن کر چبھتا رہے گا ،اس لئے تمام مسلمانوں کو اسلام نے صبر اور برداشت کی تلقین کی ہے ،اسی کے ساتھ یہ تاکید کی ہے کہ ہر شخص ایک دوسرے کا حق ادا کرے۔ باپ بیٹے کا حق ادا کرے اور بیٹا باپ کا ،شوہر بیوی کے حقوق و فرائض کا خیال رکھے اور بیوی شوہر کے حقوق کا،اس طرح باہمی حقوق کی ادائیگی سے نزاع اور اختلاف کا راستہ بند ہوجائے گا اور گھر جنت کا نمونہ محسوس ہوگا … یہ وہ تعلیمات ہیں جن کا دوسرے مذاہب میں فقدان ہے ،اس لئے خود کشی کا رجحان غیر مسلموں میں زیادہ ہے۔معمولی معمولی باتوں میں وہ اپنا حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں اور پھر سارے اسباب راحت کے باوجود ایسا قدم اٹھاتے ہیں جس کے تصور سے بدن کانپ اٹھتا ہے۔

مفتی تنظیم عالم قاسمی

Written by 

استاذ حدیث دارلعلوم سبیل السلام حیدرآباد و صدر نشین تحفظ سریعت فاؤنڈیشن تلنگانہ و آندھرا پردیش