تم انہیں مردہ کہو۔ ہم انہیں جاوداں کردینگے

چند دن قبل سے یہ خبر گشت کررہی تھی کہ قدیم شام جواغیار مداخلت کی بنیاد پر چارحصوں میں تقسیم ہوچکاہے اسکاایک حصہ جو آج کل جوسیریا اور شام کے نام سے موسوم ہےوہاں بشار کی آمرانہ حکومت نے ،، دیر سمعان حمص ،، کےعلاقےمیں موجود عمربن عبدالعزیز کی قبر کے ساتھ بےحرمتی کی انتہاء کردی ۔اوریوں اپنی سنّی دشمنی کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کی.

عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کاشمار پانچویں خلیفۂ راشد کےطور پر ہوتاہے. آپکی پیدائش ۶۲ھ میں عبدالعزیز بن مروان بن حکم کےگھرہوئی جوکہ مصر کےحاکم تھے ۔آپ کی والدہ فاروق اعظم کی پوتی یعنی عاصم بن عمرفاروق کی بیٹی تھی.

آپکی سعادت اورعلومرتبہ کیلیےیہی بات کافی ہیکہ فاروق اعظم جیسا جلیل القدر صحابی آپکےزمانےمیں ہونےکی تمناکیاکرتےتھے. تفقہ فی الدین میں آپکی شان یہ تھی کہ اگرکرسی خلافت پر براجمان نہ ہوتے توائمہ شرع کےمرتبہ پرفائز ہوتے,حدیث کی تحصیل عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ کےسامنےزانوےتلمذتہ کرکےمکمل کی.

خلافت جیسے عظیم منصب کابار جب تک آپکے دوش پر نہیں رکھی گئی تھی اسوقت تک آپکی زندگی نہایت پرتعیش اور اور پرتکلف تھی, آپکالباس کسی شاہی خلعت سےکم قیمت کامعلوم نہ ہوتاتھا, لیکن جونہی ولید نےمدینہ کی گورنری کاپروانہ آپکوسونپا آپکی دروں کی دنیامیں ایک عظیم انقلاب بپاہوگیا, ولید سے اولاعہدہ کی قبولیت کی یہ شرط رکھی کہ میں پیش رو گورنروں کی طرح رعایاپر ظلم روارکھنےمیں آپکی جانب سے مجبور نہ ہونگا چنانچہ اس نےاس شرط کو قبول کیا.
مدینہ جاکراپنی امارت کااعلان کیا اور فوری طور پر علماءمدینہ کی کونسل تشکیل دی, جنکےمشورہ کےمطابق اپنی حکومت کے فرائض کونہایت تندہی سےانجام دیا. سنہ ۸۶ھ سےلےکر ۹۳ھ تک مدینہ کےگورنر رہے ۔حجاج کی شکایت پرولید نے آپکےنام معزولی کافرمان روانہ کیا ۔ اورشام واپس بلالیا پھر ایک قضیہ میں ولید کی مخالفت کرنےکی وجہ سے قریباتین سال سلاخوں کےپیچھے گزارنےپڑے.

عہد خلافت

سنہ ۹۸ھ میں سلیمان بن عبدالملک کے انتقال کے بعد حسب وصیت منجانب متوفی اسوقت کےوزیراعظم ،،رجأ بن حیوۃ نےبرسرعام ملفوف سربمہر فرمان لوگوں کو پڑھ کر سنایا, جسمیں اولاخلافت پرعمربن عبدالعزیز کےمتمکمن ہونےکی وصیت تھی, جسکوسن کر ہشام نےمخالفت کی لیکن رجا کےسخت موقف اپنانےکی وجہ سے وہ خاموش ہوگیا, بعدہ عمربن عبدالعزیز نےلوگوں کےسامنے اپناپہلاخطبہ دیا. حمدوثناء کےبعد تمام ہی موجودین کواس بات کامکلف بنایا کہ تم ہرمیری اطاعت اسوقت تک لازم ہے جب تک میں خلاف شرع امور کاحکم نہ دوں ،بصورت دیگرتمہارےلیے سرتابی ممکن ہی نہیں واجب ہے.

تقریبا ڈھائی سال تک نہ صرف کامیاب حکومت کی ،بلکہ خلافت راشدہ کی یادتازہ کردی, ہرسو عدل کاچرچاعملی طورپر پھیلنے لگا، آپکےدوش پر ایک طرف رعایاکی ذمہ داری تھی کہ انکوبنیادی سہولتیں مہیا کی جائیں دوسری طرف بنوامیہ کےاقتدارکےحصول کی طویل رسہ کشی نے اسلام کےشفاف چہرے پر بدنما داغ لگائے تھے انکاتصفیہ بھی ضروری تھا.

اور ان سارے اموروعوامل کی بنیادپر امت میں جوایک خلفشار پیداہوگیاتھا،خواہ اعتقاد کےتعلق سےہو یادیانات کےتعلق سے ہو ہرایک کی درستگی اہم امور میں سے تھی, اور اسکا حل آپ نےیوں نکالا کہ سب سےپہلےاعیان سلطنت کےجبرواستبداد کاخاتمہ فرمایا بصورت دیگر عہدے سےفارغ کردیا.

بنوامیہ کی قدیم روایتوں سے انحراف ہی نہیں بلکہ انکارکیا اور کلی طور پر انکااستیصال کردیا، درباری مولویوں کی چپقلش کو اسطرح بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا کہ پہلےجمعےکےخطبےمیں جن لوگوں نے امیرالمومنین کی تعریف وتحمید کی انکی سرزنش کی اور جومتشدد قسم کے لوگ خطبہ میں سود اللہ وجہہ جیسےالفاظ پڑھتےتھے انہیں علی کرم اللہ وجہہ جیسے الفاظ پڑھنےکاپابند بنایا.

اور اسی پر بس نہیں بلکہ کسی نےحضرت علی اور حضرت معاویہ کے مشاجرہ کے سلسلے میں دریافت کیاتو انہیں ایساجواب مرحمت فرمایاکہ وہ اہل السنہ کےہاں عقیدہ کادرجہ اختیار کرگیا جواب یہ تھا ،،کہ جب اللہ نےہماری تلواروں کوانکے خون سے آلودہ نہیں توہم انکےدرمیان فیصل بن کراپنی زبان آلودہ کیوں کرکریں ،، اور بعد میں تفویض ہی مشاجرات کےباب میں جمہور کاموقف بنا.

وفات

بنوامیہ چونکہ آپکی تخت نشینی کواپنےلیے حق تلفی گردانتےتھے, چنانچہ انہوں نےآپکوآپ ہی کےخادم خاص کےذریعہ زہر دلوایا, آپکو جب اسکی اطلاع ہوئی تو آپ نے للہ اسے معاف فرمادیا زہر نےرفتہ رفتہ اثرکرناشروع کیااور ۲۵ رجب سنہ۱۰۱ھ کوتلک الدارالآخرۃ نجعلہاللذین لایریدون کی تلاوت فرماتے ہو روح کو روح کےرب کےحوالےفرمادیا.

یہ تو اپکی حیات جاودانی کاعکس تھا لیکن اس چیز کے تذکرہ کی جووجہ بنی اس پر تفصیلی گفتگو توپھر اور کبھی اختصارااتنا عرض ہیکہ خطہ کی سیاست کوسمجھنے کیلیے پہلے شیعہ سنی تفریق کی اصل جاننے کی ضرورت پڑیگی ،پھر قدیم شام اور جد ید شام جوچار حصوں میں اب منقسم ہے اسکی تاریخ جاننی پڑیگی ، پھر حافظ الاسد اور بشار کی درنگی کے واقعات کی تفصیل جاننی پڑیگی, پھر بیرونی مداخلت خصوصا روس وایران کی سفارتی سرگرمیوں کابنظر غائر جائزہ لیناپڑیگا.

بہرحل گورکنی کےاس واردات کی تفصیل جاننےکیلیے اتناکافی ہیکہ یہ دراصل ایک شیعی انتقام ہے جواپنے فرقہ تو نہیں بلکہ مذہب کی برتری کیلیے انجام دیاگیاہے اور جسکو پوتین کے سابقہ سوریاکے دورے نے شہ دی ہے، اور انکی خواہش ہی نہیں شدید خواہش پر سنیوں کودلی گزند پہونچانے کے باعث یہ حرکت انجام سے نابلد بشار نے انجام کوپہونچائی ہے.

جاری