باہر وبا کا خوف ہے گھر میں بلا کی بھوکاختصاریۓ 

باہر وبا کا خوف ہے گھر میں بلا کی بھوک

لاک ڈاون ہم ہندوستانیوں کےلئے ایک نیا تجربہ تھا اس سے قبل ہم کبھی ایسے تجربے سے گزرے نہیں تھے۔ ابتداء میں کسی نے مستحسن قدم بتایا تو کسی نے “کرونا” کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار اور ہو بھی کیوں نہ, چین اسی ہتھیار کے سہارے “کرونا” کو شکستِ فاش دے کر چین کی نیند سورہا ہے۔ ہندوستان بھی چین کے نقش قدم پر چل کر اس وبائی مرض کو شکست دے سکتا ہے  لیکن ہمیں یہ بھی یاد رہے کہ دونوں ہی کثیرالآبادی والے ملک ہونے کے باوجود ہندوستان میں غربت کی شرح چین سے کہیں زیادہ ہے…



ہندوستان کے ایس ڈی تندولکر کی صدارت میں بنی ایک کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اب ملک میں اڑتیس فیصد لوگ خط افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لوگ دیہاڑی مزدر ہیں۔ ان کا گزر بسر ہی دن بھر کی محنت و مزدوری پر چلتا ہے۔ اچانک کے لاک ڈاون نے ان کی ایسی کمر توڑی اور زندگی اجیرن کردی کہ آج ایک ایک لقمہ کو ترس رہے ہیں گویا وہ زبان حال سے کہ رہے ہوں۔ 

باہر وبا کا خوف ہے گھر میں بلا کی بھوک

کس موت سے مروں ذرا رائے دیجئے

مرکزی و صوبائی دونوں ہی حکومتوں کو سب سے  پہلے غربت سے جھوجتے ان دیہاڑی مزدوروں کی طرف توجہ دینے کہ اشد ضرورت ہے حالانکہ مرکزی حکومت اور کئی صوبائی حکومتوں نے اس تعلق سے کئی اعلانات بھی کئے لیکن ان اعلانات کا خاطر خواہ کتنے غریبوں کو فائدہ ہوا؟

سرکاری خزانے سے نکلنے والا کھربوں روپیوں کا امدادی پیکج مستحقین تک پہونچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتا ہے۔   حکومت اور میڈیا لاکھ دعوی کرلے کہ ہم ہندوستان کے ہر غریبوں تک کھانا پہونچا رہے ہیں۔

لیکن  لاک ڈاون کو توڑتے ہوئے سورت کی سڑکوں پر اور ممبئی کے باندرہ اسٹیشن پر دیہاڑی مزدورں کا بڑی تعداد میں جمع ہونا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ حکومت اس معاملے میں مکمل نہ صحیح لیکن بڑی حد تک ناکام رہی ہے۔ اسی لئے تو وزیر اعظم نے اپنی ناکامی کو چھپاتے ہوئے دیش واسیوں سے اپیل کی تھی کہ ہر کوئی اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھے.



یہ حیقت ہے کہ وزیر اعظم کی اپیل سے قبل ابتدائے لاک ڈاون سے ہی، چند دردمندان ملک و ملت انفرادی و اجتماعی طور پر پورے جوش و خروش ,جذبہ و ایثار کے ساتھ اس کار خیر میں حصہ لے رہے ہیں اور مستحقین تک راحت بہم پہونچانے میں جٹے ہوئے ہیں۔ شکر ہے دل میں درد رکھنے والے ہر دور کی طرح اس دور میں بھی موجود ہیں فرق  صرف اتنا ہے کہ یہ دور نام و نمود اور ریا کا ہے آپ جتنا زیادہ دکھاوا کروگے اتنا ہی معاشرہ آپ کو معزز و محترم سمجھے گی ان درد مندان ملک و ملت کو کیا خبر کہ 

خود دار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا

راشن تو بٹ رہا تھا، وہ فوٹو سے ڈر گیا

ضرورتمندوں کی حاجت روائی ضرور کیجئے پر کسی کی عزت نفس کو مجروح مت کیجئے. خیال رہے کہ کیمروں کے سامنے راشن دینےوالوں کےمسکراتےچہرے اور راشن لینےوالوں کی بےبسی، لاچاری اور جھکی ہوئی نگاہیں انسانیت کی توہین ہے!

Related posts