ایک فاش غلطی! جو ہماری آخرت تباہ کردےمضامین و مقالات 

ایک فاش غلطی! جو ہماری آخرت تباہ کردے

جب سے سوشل میڈیا کا دور شروع ہوا ہے ۔ لوگوں کے پڑھنے کا رواج بھی بڑھ گیا ہے ۔ پہلے عام آدمی دینی باتیں صرف مسجد سے لیتا تھا اور چند ایک لوگ تھے جنہیں کتابیں پڑھنے کی توفیق ہوتی تھی ۔ اب جب پڑھنے کا رواج بڑھ گیا ہے تو یہ سوشل میڈیا کی مہربانی ہے۔

جو بھی ہو یہ ایک خوش کن اور اچھی بات ہے ، لیکن یہ اچھی بات اسی وقت ہوگی جب بندہ کام کی چیزیں پڑھے جس سے اس کے دین اور دنیا کا ، یا دونوں میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو۔ بے کار کی فالتو باتیں جس کا کوئی فائدہ نہ ہو, بس انٹرٹینمنٹ ہو، ٹائم پاس ہو، تو پھر کوئی مطلب نہیں ۔ایسی پڑھائی کا۔


اسی طرح دین کو لیکر بھی سوشل میڈیا پر روزانہ ڈھیر سارا مواد گشت کرتے رہتا ہے جس میں بے سروپا باتیں بھی ہوتی ہیں، من گھڑت، بے بنیاد، غیر معقول واقعات، قصے کہانیاں بھی، صحیح، درست اور حقیقی علم دین بھی، اب سارے لوگوں کی صلاحیت اور قابلیت تو ایسی نہیں کہ وہ اتنے سارے ڈھیر میں سے، صحیح اور غلط کی پہچان کرے، سچ اور جھوٹ میں فرق کرے، حق وباطل میں تمییز کرے.

ہوتا یہ ہے کہ ہر آنے والی چیز کو پڑھا جاتا ہے جو مزاج کو اچھی لگے، طبیعت کو بھلی محسوس ہو، عقل اسے قبول کر لے۔ تو لوگ مجرد پڑھنے میں یا سننے میں اچھا لگا. اس بنیاد پر فورا درجنوں گروپ میں اور سینکڑوں نمبروں پر فاروڈ کرنے لگتے ہیں۔

جہاں تک دنیاوی باتیں ہیں یا غیر دینی باتیں ہیں تو اس میں سنی سنائی باتوں پر یقین کرنا نہ کرنا، ماننا نہ ماننا ، فاروڈ کرنا یا نہیں کرنا یہ ہمارے اختیار میں ہے ۔ مان لو غلط بھی ہے تو اس کا نقصان بہت معمولی اور محدود ہوگا۔ اگر چہ کہ اس سے بھی بچنا بےحد ضروری ہے۔

رہا مسئلہ دین کا تو ۔اسلام نے یا سلف صالحین نے اس حوالے سے جتنا زیادہ احتیاط برتنے کی بات کہی تھی ہم اتنا ہی زیادہ لاپرواہی کا شکار ہوتے ہیں ۔ لوگ تحقیق کئے بغیر پڑھ کر یا پڑھے بنا بس فاروڈ کرنے لگتے ہیں, جس میں من گھڑت احادیث بھی ہوتی ہیں ۔ حالانکہ اصول یہ ہے کہ

“دینی امور میں جو بات بھی کہی جائے وہ اللہ تعالی کے قرآن سے ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ، اور پھر اس کی جو تفسیر یا تشریح ہو وہ سلف صالحین کے اقوال سے ہو” ۔ ہماری اپنی من مانی یا ہم جیسے عام آدمیوں کے افکار و خیالات پر مشتمل نہ ہو ۔ہم جس سے دین لے رہے ہیں پہلے یہ تحقیق کرلیں کہ وہ کتنے معتبر یا مستند ہیں ، ہر ارے غیرے نتو خیرے سے دین نہین لیا جا سکتا ۔اس حوالے سے اصول بیان کرتے ہوئے.

علامہ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں *ان هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم ؟*
بےشک یہ علم دین ہے ۔ تم اپنا دین کس سے لے رہے ہو ؟ ذرا سنبھل کر جانچ پڑتال کے بعد معتبر مستند لوگوں سے لو. محدثین رحمھم اللہ تعالی کی تاریخ اٹھا کر دیکھو اس منہج کو اپنی زندگی میں کیسے اپنایا تھا ؟ اس منہج کو اپنانے ہی کا نتیجہ تھا کہ اسماء الرجال نام کا ایک علم دنیا کے سامنے آیا.  آج بھی دنیا حیران اور ششدر ہے اس منہج پر۔ جزاهم الله عنا وعن سائر المسلمين خير الجزاء.


یہ ہے سلف کا منہج۔ اب جو بندہ سوشل میڈیا سے دین حاصل کر رہا ہے، کیا وہ جانتا ہے علم دین سکھانے والا کون یے؟ اس کا منہج کیا ہے؟ کیا وہ جو باتیں بتا رہا ہے وہ مدلل ہیں؟ کیا اس کی باتوں میں حوالے پیش کئے جا رہے ہیں؟ اس میں کتنی تحریریں تو بغیر نام کی ہوتی ہیں. کتنے ویڈیوز ایسے ہوتے ہیں جن میں مقرر کے حوالے سے کوئی تعارف، اسکی کوئی پہچان، وہ کس ادارہ کا فارغ التحصیل ہے اس کی کوئی شناخت تک نہی ہوتی۔

اب جو بندہ اپنے آپ کا نام تک نہ بتائے۔ ایسے گمنام لوگوں سے کیا ہم دین، منہج اصول لے سکتے ہیں؟
سنن الدارمی میں امام ابن سیرین کا ہی ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے.
دو اجنبی شخص ابن سیرین کی علمی مجلس میں آئے اور عرض کیا! اے ابو بکر ہم آپ کو حدیث بیان کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے کہا! مت بیان کرو۔ انھوں نے کہا قرآن کی ایک آیت سنانا چاہتے ہیں۔ آپ نے کہا!  مت سناؤ۔ پھر بلند آواز سے کہا.

تم لوگ یہاں سے نکل جاتے ہو یا میں خود نکل جاوں؟
وہ دونوں نکل گئے۔ بعد میں مجلس میں بیٹھے لوگوں نے امام صاحب کیا ہوتا ذرا سن لیتے, وہ لوگ تو قرآن وحدیث ہی تو سنا رہے تھے۔ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے کہا!  مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ قرآن وحدیث کو بیان کرتے کرتے منہج سلف کے عقیدہ وایمان کے خلاف درمیان میں اپنی کوئی بد عقیدگی کی بات ٹھونس دیتے اور مجھے بھلی لگتی تو میرا کیا ہوتا؟.


سلفی منہج یا اس کے اصول گمنامی میں بیٹھ کر پردوں کے پیچھے رہکر نہ بیان کئے جاتے ہیں اور نہ ہی حاصل کئے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی سیانا مجھ پر بھی اعتراض کرے کہ اس میں غلط کیا ہے؟ تاریخ اٹھا کر دیکھو باطل فرقوں کی بنیاد بھی ایسے ہی مواد سے شروع ہوئی اور جب کسی پر اندھا بھروسہ ہو گیا تو آدمی دھیرے دھیرے غیر شعوری طور پر کہاں سے کہاں چلا جاتا ہے پتہ بھی نہیں چلتا۔ ربنا ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه ۔۔۔اللهم آمين ۔

اس قسم کی باتیں ہمیں کتنی ہی بھلی کیوں نہ لگے اس وقت تک فارورڈ نہیں کرنا چاہئیے جب تک اس کے صحیح، درست ،اور معتبر و مستند ہونے کا یقین نہ ہو، اگر میرے پاس اتنی قابلیت اور صلاحیت نہ ہو تو اھل علم سے رجوع کر کے آگے بھیجنا چاہیئے ورنہ اسے اپنے تک ہی روک لینا چاہیئے۔ اللہ ہمیں حق کہنے سننے سمجھنے اوراس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین!