Sajdahاسلامی مضامین 

ایک امام کی دوجگہ امامت! چند اشکالات

زیر نظر مضمون ایک امام کی دوجگہ امامت سے متعلق ہے. ہم ہندوستانی ابھی طویل مدتی لاک ڈاون کے دور سے گزر رہے ہیں, اسی تالا بندی کی حالت میں ہم نے رمضان کا مبارک مہینہ بھی گزارا اورسادگی سے عید بھی منائی. پروفیسر ظفر الدین صاحب نے اپنے شاگردوں کو اسی کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے ان الفاظ میں عید کی مبارک باد پیش کی تھی.

*کرونا کے خوف کے سائے تلے*

*مگر امن و سکون*

*اور فقیدالمثال فرصت کے دوران*

*گزرے ہوئے رمضان المبارک کے بعد*

*سادہ ترین عید مبارک ہو*

خیر رمضان اور عید خیریت و عافیت کے ساتھ بڑی سادگی سے گزری. چونکہ لاک ڈاون ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا, اس لئے کئی نئے مسائل بھی جنم لینے ضروری تھے, ان ہی مسائل میں عید کی نماز کا بھی مسئلہ درپیش تھا, کیونکہ حکومت ہند کے تالا بندی کے ضابطہ کے تحت کسی بھی جگہ پانچ شخصوں سے زیادہ کی بھیڑ جمع نہیں ہوسکتی تھی, ایسی صورت میں اس ضابطہ کی پاسداری کرتے ہوئے ہمیں اپنے اپنے گھروں میں نماز عید ادا کرنی تھی.


لیکن یہ امت مسلمہ کا المیہ ہی کہئے کہ علماء دین کی کمی کے باعث انہیں کوئی نماز پڑھانے والا میسر نہیں تھا. جن گھروں میں عالم موجود تھے ان گھروں نماز عید تو ادا کی گئی لیکن جن گھروں میں علماء کرام موجود نہیں وہ نماز عید کےلئے در بدر کی ٹھوکڑیں کھانے پر مجبور تھے. ٹھوکڑیں کھاتی ان مسلم عوام کے درد کو دیکھتے ہوئے چند علماء کرام آگے بڑھے اور ایک سے زائد جگہ نماز عید کی امامت کی خدمات انجام دیئے. اللہ ان کے اس خدمات کو شرف قبولیت بخشے. آمین

دینی علوم سے ناواقف عوام کے نزدیک ایک ہی عالم کا کئی جگہوں پر نماز عید کی امامت کرنا نئی بات تھی, لہذا ان مخلص علماءکرام سے دلیل کی طلبی کے ساتھ طعن و تشنیع شروع ہوگئ, جب ان مخلص علماء کرام سے دلیل طلب کی گئی تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ والی حدیث بیان کردی اور کہا کہ حضرت معاذ نبی اکرم اصلی اللہ علیہ وسلم کی اقداء میں نماز پڑھتے پھر اپنے قبیلے میں نماز پڑھایا کرتے تھے اس لئے دو یا دو سے زائد جگہوں پر امامت درست ہے. کیا یہ تشفی بخش جواب تھا?

اس حدیث سے Direct دلیل لینے پر کئی اشکالات وارد ہوتے ہیں, جس کا بحیثیت عالم آپ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ آپ تشفی بخش جواب دیں نہ کہ اپنے اساتذہ کی تعلیمی لیاقت کا دھونس جمانے لگے کہ فلاں بڑے عالم نے کہا.

اشکال نمبر 1) حضرت معاذ ایک جگہ مقتدی ہیں دوسری جگہ امام یہاں امام دونو ں جگہ امامت کررہے ہیں پھر دونوں میں موافقت کیسے ہوئی?

اشکال نمبر 2) بعض اہل علم کے مطابق حضرت معاذ والی حدیث حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کے ساتھ خاص تھا کیونکہ اس جیسا عمل کسی ایک صحابی سے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور نہ ہی خلفاء راشدین کی زندگی میں ہمیں ملتا ہے. اگر یہ خاص نہیں تھا تو آپ اسکی دلیل بتائیں?

اشکال نمبر 3) اس اشکال کا تعلق نماز عید سے تو نہیں ہے لیکن ایک امام کے دو فرض نماز کی امامت سے ضرور ہے. آپ کی رو سےاگر ایک امام دو جگہ امامت کرے تو پہلی نماز نفل ہوجاتی ہے اور دوسری نماز فرضیت کے درجہ میں رہتی ہے ایسی صورت میں ایک نفل نماز کے ذریعے فرض نماز کی امامت کیسے درست ہوگی?


اشکال نمبر 4) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کرنا عام حالات میں تھا نہ کہ بحالت مجبوری. تو بحیثیت اہل حدیث ہمیں بھی اس حدیث پر ہر حالت میں عمل کرنا چاہئے تاکہ اس حدیث کو اس کی روح کے ساتھ زندہ کیا جائے. جب حضرت معاذ نے عام حالات میں یہ عمل کیا تو ہم اس کو صرف مجبوری کی حالت پر کیوں محمول کریں.?

ان اشکال کے بعد میں وضاحت کرتا چلوں کہ میں بھی ایک امام کی ایک وقت میں دو یا دو سے زائد امامت درست مانتا ہوں مگر اضطراری اور مجبوری کی حالت میں اس حدیث پر قیاس کرتے ہوئے.

Related posts