اس گھرکوآگ لگ گئی گھرکےچراغ سےاختصاریۓ 

اس گھرکوآگ لگ گئی گھرکےچراغ سے

ملک میں نافذ طویل ترین لاک ڈاون کےباعث نظام زندگی مکمل مفلوج ہوکررہ گئی ہے، اورکئی اہم مسائل کھڑےہوگئےہیں, جن میں سےبیشترکاتعلق بنیادی انسانی ضرورتوں سےہے, جن میں سےکچھ چیزوں کاتکفل حکومت کررہی ہے، معاشرہ کی انہی بنیادی ضرورتوں میں سےتعلیم بھی اہم حیثیت رکھتی ہے ،لاک ڈاون کےباعث اسکی بھی حالت دگرگوں ہیں ،مدارس واسکول میں تالےپڑےہیں اوریہ وقت چونکہ مدارس کیلیےاس معنی کربھی نہایت اہم ہیکہ نئےتعلیمی سال کابھی آغاز ہے ، جیساکہ شنید ہےحکومت تعلیمی مسائل کےحل کیلیےملک کی بڑی بڑی یونیورسیٹیوں پر اس بات کادباو بنارہی ہے کہ وہ آن لائن تعلیم کانظم کریں ،اور انکےلیے یہ بات اتنی دشواری کاباعث بھی نہیں ہے خصوصاجب کہ وہ حکومتی تحویل میں ہے.

ایسی صورتحال میں قبل از وقت مدارس کوبھی اس بات کیلیے ہمہ وقت مستعد رہناچاہیےکہ حکومت کی جانب سے کسی بھی وقت اس قسم کافرمان انکےنام بھی جاری ہوسکتاہے اور انہیں بھی آن لائن تدریس کاپابند بنایاجاسکتاہے،اس خدشہ کومزید تقویت اس بات سےپہونچتی ہے کہ معدودے مدارس وقتی فائدے کےپیش نظر اس پالیسی پرعمل درآمد ہونےکویقینی بناچکی ہے.

لیکن اس طرح کی پیش رفت سےپہلےہمیں انتہائی باریک بینی سے اسکےتمام ترپہلؤوں کابنظرغائرجائزہ لےلیناچاہیے ،وگرنہ اس قسم کےاقدامات عجلت اور کوتاہ بینی کےمترادف ہونگے،اور اس پروہ دوررس مضراثرات مرتب ہونگے جوہماری صدیوں کی تاریخ پرایک ہی لمحہ میں سیاہی پھیر دینگے

یقینا آن لائن تدریس کےبہت سارےفائدےہیں کم ازکم اتناتوضرور ہیکہ طلبہ وعلماء کی عظیم جماعت ضیاع وقت جیسےسنگین گناہ کی مرتکب نہیں ہوگی، ساتھ ساتھ یہ ہماری روشن خیالی اور بلند پروازی کی بین دلیل بھی ہوگی ،نیز اس بات کی خاموش غماز بھی ہوگی کہ اب علماء بھی زمانہ کےدوش بدوش قدم ملاکرچل سکتےہیں، زمانہ کی نت نئی تبدیلیاں ان پر بھی اثراندازہوتی ہے اور سب سےاہم یہ کہ وہ اکابرکےنام کےپس پردہ اپنےذہنیت کی ترویج نہیں کرتے ہیں

لیکن ٹھہرکر ہمیں ہوش کے ناخن لینےچاہیے ،کہیں ایساتونہیں ہم اس نئی پیشرفت کوقبول کرکےاپنےہاتھوں ذبح ہونےکاسامان تونہیں فراہم کررہے، عام علماء ہی نہیں اساطین امت کےجو،،آن لائن تدریس،، کے تئیں خدشات وتحفظات ہیں مبادا!وہ واقعیت کاپیرہن نہ پہن لیں اور پھریوں ہوکہ
لواپنےآپ دام میں صیاد آگیا ع

آن لائن تدریس تحفظات وخدشات

سب سے پہلی خرابی! جو آن لائن تدریس کے سبب منصۂ شہود پرآئیگی وہ یہ کہ خودمختار مدارس کسی نہ کسی درجہ میں حکومتی تحویل میں آجائینگے حکومت مکمل نظربنائےرکھےگی ، ساری حرکات وسکنات محفوظ رہینگی اور بوقت ضرورت اس کوبنیاد بناکرکسی بھی فرد کااستحصال کیاجاسکتاہے ، حکومت اپنی اس مداخلت کواپنی کامیابی کاپہلازینہ قرار دیگی پھر رفتہ رفتہ حوصلےبلند ہونگے اور سرکاری شکنجہ مضبوط تر ہوتاچلاجائیگا نتیجہ مدارس کی معطلی کی شکل میں آئیگا ،یقین نہ آئے توپاکستان کےمارڈن مدارس کی تاریخ پڑھ لیں ،برساقتدارافرادکےدلوں میں ایمان کی اسپرٹ کےہوتےہوے انکاکیاحشر ہو ا،اللہم احفظنامنہ

دوسری خرابی! علامہ اقبال کے الفاظ میں معنویت اور مادیت کی اس شدید کشمکش میں معنویت کی وکالت کرنےوالے افراد کمیاب ہی نہیں بلکہ گم ہوجائینگے، مدارس کےچند فرسودہ بوریہ نشیں ہی معنویت کے محاذ پر ڈٹےہوےہیں ورنہ ایک بڑی تعداد علماء کی بھی نادانستہ طورپر اس مادیت کی لائین میں لگ چکے ہیں یہ بات ابھی اکثر کیلیے چیستاں ہے وقت آنے پر سارےمعمےاور شگوفےکھلتےچلےجائینگے.

تیسری اوراہم خرابی! چونکہ مدارس اسلامیہ کامقصد روزاول سے تعلیم اور تربیت دونوں رہاہے اور یہ جزولاینفک ہے،ان میں سےکسی بھی جزسےتکاسل یاغفلت نہیں برتی جاسکتی ،،مذکورہ طریقہ میں تربیت طلبہ کی ممکن نہیں نہ اخلاقی اعتبار سےاور نہ فکری اعتبار سے پھرہمارےہاں کسی نہ کسی درجہ میں روحانیت کادخل ہے جسکی وجہ سےیہ بات مخفی نہیں رہ جاتی کہ علوم نبوت سینہ بہ سینہ منتقل ہوتاہےاور اسکےلیےطالب علم کابالمشافہ استاذ کےسامنےحضوری ضروری ہے اوریہ ساری باتیں اس طریقۂ کارمیں عنقاء ہے

یہ تین اصولی اور بنیادی خرابی ہے آن لائن تدریس کےطریقہ میں، اورکتنی ہی جزوی خرابیاں ہے وقت آنےپرہم کھلی آنکھوں اس کامشاہدہ کرلینگے

یہ کوئی حتمی اور یقینی تجزیہ نہیں ہے عین ممکن ہے سامنےوالےکےپاس اس سےزیادہ مسکت ومضبوط دلیل ہولیکن اب تک میری نگاہ میں ایسی کوئی دلیل نہیں گزری سوائے ضیاع وقت کارونارونےکے اورالزام تراشی کرنے کے جہاں تک الزامی چیزیں ہیں تووہ قابل ذکرہےہی نہیں بلکہ یہ پرانافرسودہ بےسود قسم کااعتراض مغالطہ اور خلط مبحث کی قبیل سےہے ،جیسےانکایہ کہناکہ،، مولویوں کوہرنئی چیز سےوحشت ہوتی ،، اورمثال میں انگریزی لاؤوڈ اسپیکرکوپیش کرتےہیں یہ نہایت بوداقسم کا،اعتراض اوربےمحل کی گلکاریاں ہیں.

پہلےانہیں سمجھناچاہیےکہ کونسی بحث فقہ کی ہے اور کونسی بحث فکری ہے بحث ،،آن لائن کورس کےجواز یاعدم جوازکی نہیں ہے وہ توہرایک جواز کاقائل ہےبحث اسکےمضر اورمفیدہونےکےپہلووں سےہے کہ آیا،،آن لائن کورس ،،مدارس کیلیےمفیدہے یامضر سیدھی سی بات ہیکہ مدارس کی موجودہ صورت حال پس منظراور پیش منظراسکی اجازت دیں توبالکل مناسب ہے وگرنہ نہیں، ہماری رائےکےمطابق توبالکل بھی نہیں اورہرایک کوحق ہےاپنی رائےرکھنےکا چونکہ ہم جمہوریت کےعلمبردارہیں.
اللہم علمناالصواب

Related posts