مضامین و مقالات 

آزادی ، خواب وحقیقت کا پر فریب سنگم

آزادی، خود مختاری ان جیسےالفاظ کےسننے کےبعد ذہن یکلخت تخیل کی وادیوں میں سیر کرنےلگتاہے ، شعور غیرمحسوس طریقہ سےلطف اندوز ہونےلگتاہے، آگہی کی بانچھیں کھل جاتی ہے ، اور ادراک اپنی انفعالی کیفیت کے سرور کوبھی فرحاں وشاداں پاتاہے، واقعی آزادی ایک ایسی نعمت غیر مترقبہ ہے کہ جو نہ صرف ہرانسان کامطمح نظرہے ، بلکہ اسےحرزجاں بنانےپرآمادہ ہے

لیکن یہ تو سکہ کاایک رخ ہے ،دوسرارخ اس کانہایت المناک ہے کرب اوراذیت کواس سےکشید کیاجاسکتاہے ،ہم اپنی نجی زندگی میں جب اس آزادی کی تلاش کرتےہیں توہمیں حرماں نصیبی کاسامناکرناپڑتاہے فرد کی زندگی میں آپ کو شاید آزادی مل جائے، لیکن قوموں کی زندگی میں یہ اپنے حقیقی معنوں میں عنقاء ہے خصوصا ہندو پاک کےمسلمانوں کی زندگی میں تویہ نایاب ہی ہے ،چونکہ نفسیات کےمطابق ہرکام مقصد کےساتھ اس انداز سے مربوط ہیکہ اگر چیزوں کومقصد جداکردیاجائےتو وہ بےمعنی ہوکررہ جاتاہے، اگرآزادی کےبھی مقاصد نہ ہوتووہ روکھی پھیکی بھی چیز ہے،

اس جہت سےاگر ہندوپاک کے مسلمانوں کی آزادی کاجائزہ لیاجائےجو انہیں انگریزوں سےملی تو یہ کہنےمیں ذرہ برابرتامل نہیں ہوناچاہیے کہ چونکہ آزادی کےبعد قیام پاکستان کےجومقاصد تھے وہ حاصل نہیں ہوے،قطع نظر قرارداد مقاصد کے، اوران چیزوں کےجوانہیں مسلم ملک ہونےکی وجہ سےحاصل ہوے، اسلیےپاکستان بھی آزادی کی واقعی سرحد کوعبور کرنےمیں کامیاب نہیں رہا، اور ہندوستانی مسلمان تو اس سے کہیں زیادہ فریب کےشکارہوےکہ انہیں ایک ہاتھ میں بھی لڈو نہیں مل سکا، بجائے اسکے،،متحدہ قومیت ،،کےنظرے پربہت سارے شکوک وشبہات نےجنم لےلیا، جن کادفعیہ آج تک معمہ بناہوا اور جس نے،، خواب وحقیقت،، کےفریب کاایسادلدل نمابھنور تیارکیاہے کہ اس تضاد کی نظیر شاید ماضی میں کہیں اور مل سکے ۔

واضح رہےکہ میں دوقومی نظریہ کاحامی نہیں ہوں لیکن اپنی اس الجھن سےخود کونکال بھی نہیں پاتاہوں ، اگرانگریزوں سےلڑائی محض اس وجہ سےلڑی گئی تھی کہ وہ غیر ملکی ہیں، اور اس کاکوئی شرعی پس منظر نہیں ہے توپھر ہرحکم بجا ، لیکن ایساکہاں تھا اس وقت تواسےجہاد سےتعبیرکیاجارہاتھا، جہاد کےسلسلےمیں وارد آیات قرانیہ سےاستدلال کیاجارہاتھا، اور اگرجنگ آزادی کاکوئی شرعی پس منظر ہے اوریقینا ہے،توایک طاغوت کےجبرواستبداد سےنکل کر دوسرے ظالم کی بغیرپس وپیش کےاطاعت قبول کرلیناجبکہ صورت حال بعینہ یکساں ہوں کہاں کی عقلمندی ہے، یہ ہمارےحقیقت نمافریب کی تکلیف دہ صورت ہے جہاں اعتراف کےبغیر کوئی چارہ نہیں ہے، اور کوئی بھی انصاف پسند مؤرخ تاریخ کےاس دوراہےپر حتمی فیصلہ صادر نہیں کرسکتا،

آزادی کےستر سال بعد بھی مسلمان اپنی جس غلطی کاخمیازہ جس شکل میں بھگت رہاہے وہ دراصل اسی تاریخی تضاد کاشاخسانہ ہے ، قیام پاکستان توبعد کامرحلہ ہے ، آزادی کی حقیقی لذتوں سےمحرومی کاٹھیکرالیگیوں پرپھوڑنے سےپہلے اس بات کوبھی یاد رکھناچاہیے کہ قیام پاکستان تنہالیگیوں کی محنت کےنتیجےمیں منصۂ شہود پر نہیں آیا، بلکہ پوری سنگھی کانگریس جوسیکولرازم کاچولہ پہنےہوئی تھی، جب لیگیوں کےساتھ نہیں نبھی اورانکو اپنےمقاصد پورےہوتےہوے نہیں دکھے توانہوں نےاکھنڈ بھارت کے خواب کوشرمندۂ تعبیرہونےسےپہلےتوڑدیا، اسلیےبجاطورپرکہاجاسکتاہےکہ پاکستان تینوں فریق مسلم لیگ ،انگریز اورکانگریس کی مشترکہ کوششوں کادرست نتیجہ ہے ،پہلےفریق نےمطالبہ کیا، دوسرےفریق نےاتفاق کیا،تیسرےفریق نےاس پردستخط کیے، کانگریسی ورکرزکےبندکمرے کی میٹینگ کاواقعہ اتنامشہور ہے کہ اسکو دہرانا یادکردہ سبق کواحتمال کی بنیاد پردہرانےکےمترادف ہے

یہ چند تاریخی تلخ یادیں ہیں جوآزادی کازمانہ آتےہی بری طریقہ سےمجھے اپنےزد میں لےلیتی ہیں اور ہرہرقدم پرسنبھالادیتی ہیں کہ قومیں پہلےاغیارکےچنگل سےمکمل آزادی حاصل کرتی ہیں پھربام عروج تک کاسفر کرتی ہیں ، اس ترتیب کوملحوظ رکھےبغیراگر کوئی عروج کی سبز باغوں کی سیاحت کررہاہے تووہ احمقوں کی جنت کاباسی ہے جہاں ایک ہی اصول کارفرماہے وہ ہےبےوقوفی قصہ ، آزادی کےوقت جوچیزسب سےگراں مایہ تھی آج سب سےارزاں ہے، اور اس وقت جسکی سب سےزیادہ فکرتھی آج اسی کی عظمت وسطوت پر حملہ ہے جواہداف تھےآزادی کے، وہ سب طاق نسیاں ہوے، لیکن پھربھی ایک ہندوستانی ہونےکےناطےہمیں یوم آزادی مناناچاہیے علامہ اقبال کی زباں میں

سارےجہاں سےاچھا ہندوستاں ہمارا

Related posts